ترجمہ و تفسیر — سورۃ الطارق (86) — آیت 3

النَّجۡمُ الثَّاقِبُ ۙ﴿۳﴾
وہ چمکتا ہوا ستارہ ہے۔ En
وہ تارا ہے چمکنے والا
En
وه روشن ستاره ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 2 میں تا آیت 4 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

3۔ 1 طارق سے مراد؟ خود قرآن نے واضح کردیا۔ روشن ستارہ طارق ہے جس کے لغوی معنی کھٹکھٹانے کے ہیں، لیکن طارق رات کو آنے والے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ستاروں کو بھی طارق اسی لئے کہا گیا ہے کہ یہ دن کو چھپ جاتے ہیں اور رات کو نمودار ہوتے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ وہ ستارہ [2] ہے چمکتا ہوا
[2] شہاب ثاقت کی حقیقت :۔
اس مقام پر ﴿النجم الثاقب﴾ کا لفظ آیا ہے۔ دوسرے مقام پر ﴿شهاب ثاقب﴾ اور تیسرے پر ﴿شهاب مبين﴾ کا اور مراد سب سے ایک ہی ہے۔ شہاب ایسے انگارہ کو کہتے ہیں جس میں چمک اور شعلہ دو چیزیں موجود ہوں خواہ یہ آگ کا انگارہ ہو یا آسمان یا فضا میں پایا جائے اور ثاقب میں تیزی سے آر پار ہو جانے اور آگ کی طرح کی سرخ روشنی کا تصور پایا جاتا ہے۔ جبکہ عام ستاروں کی روشنی چاند کی روشنی کی طرح سفید ہوتی ہے۔ گویا ﴿النجم الثاقب﴾ میں تین چیزیں جمع ہو گئیں۔ ایک وہ تیزی سے فضا میں سفر کر رہا ہو۔ دوسرے اس میں چمک موجود ہو اور تیسرے وہ چمک آگ کی طرح سرخی کا رنگ لیے ہوئے ہو۔ ہم اسے اپنی زبان میں ٹوٹنے والا تارہ کہتے ہیں علاوہ ازیں یہاں واحد کا صیغہ استعمال کر کے اس سے جنس مراد لی گئی ہے۔ اور ایسے ستارے سینکڑوں کی تعداد میں فضا میں ٹوٹتے اور پھر ہماری نظروں سے غائب ہو جاتے ہیں۔ نہ وہ دوسرے ستاروں سے ٹکرا کر نظام کائنات کو درہم برہم کرتے ہیں اور نہ زمین پر گر کر زمین پر قیامت برپا کیے رکھتے ہیں۔ البتہ مدتوں بعد کوئی ایسا ستارہ زمین پر گر کر زمین میں گہرے کھڈ ڈال بھی دیتا ہے لیکن یہ بھی ایک عذاب الٰہی کی شکل اور خرق عادت امر ہوتا ہے۔ ایسے ٹوٹنے والے ستاروں کے متعلق شرعی نقطۂ نظر یہ ہے کہ جب کوئی جن یا شیطان اوپر ملاء اعلیٰ کی باتیں سننے کے لیے جاتا ہے تو اس پر ایسا شعلہ دار ستارہ پھینک کر اسے وہاں سے مار بھگایا جاتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔