اس آیت کی تفسیر آیت 1 میں تا آیت 3 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
2۔ اور آپ کیا جانیں کہ رات کو آنے والا [1] کیا ہے؟
[1]﴿الطارق﴾﴿طريق﴾ کا معنی راستہ اور ﴿طارق﴾ بمعنی راستہ پر چلنے والا۔ مگر عرف عام میں ﴿طارق﴾ بالخصوص اس مسافر کو کہتے ہیں جو صرف رات کو آئے۔ اور ستارے کو ﴿طارق﴾ اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ رات کو ہی ظاہر ہوتا ہے۔ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے خود ہی صراحت فرما دی کہ یہاں ﴿طارق﴾ سے مراد عام ستارے بھی نہیں بلکہ شہاب ثاقب ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تخلیق انسان ٭٭
اللہ تعالیٰ آسمانوں کی اور ان کے روشن ستاروں کی قسم کھاتا ہے «طارق» کی تفسیر چمکتے ستارے سے کی ہے وجہ یہ ہے کہ دن کو چھپے رہتے ہیں اور رات کو ظاہر ہو جاتے ہیں۔ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ «نَهَىأَنْيَطْرُقَالرَّجُلُأَهْلَهُطُرُوقًا» { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی اپنے گھر رات کے وقت بے خبر آ جائے }۔ ۱؎[صحیح بخاری:1801] یہاں بھی لفظ «طُرُوقً» ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا «إِلَّاطَارِقًايَطْرُقُبِخَيْرٍيَارَحْمَنُ» میں بھی «طَارِقً» کا لفظ آیا ہے۔ ۱؎[مسند احمد:419/3:حسن] «ثَّاقِبُ» کہتے ہیں چمکیلے اور روشن ستارے کو جو شیطان پر گرتا ہے اور اسے جلا دیتا ہے، ہر شخص پر اللہ کی طرف سے ایک محافظ مقرر ہے جو اسے آفات سے بچاتا ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «لَهُمُعَقِّبَاتٌمِنْبَيْنِيَدَيْهِوَمِنْخَلْفِهِيَحْفَظُونَهُمِنْأَمْرِاللَّـهِ»۱؎[13-الرعد:11] الخ یعنی ’ آگے پیچھے سے باری باری آنے والے فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم سے بندے کی حفاظت کرتے ہیں ‘۔ انسان کی ضعیفی کا بیان ہو رہا ہے کہ دیکھو تو اس کی اصل کیا ہے اور گویا اس میں نہایت باریکی کے ساتھ قیامت کا یقین دلایا گیا ہے کہ جو ابتدائی پیدائش پر قادر ہے وہ لوٹانے پر قادر کیوں نہ ہو گا۔
جیسے فرمایا «وَهُوَالَّذِييَبْدَأُالْخَلْقَثُمَّيُعِيدُهُوَهُوَأَهْوَنُعَلَيْهِ»۱؎[30-الروم:27] الخ یعنی ’ جس نے پہلے پیدا کیا وہ ہی دوبارہ لوٹائے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہے ‘۔ انسان اچھلنے والے پانی یعنی عورت، مرد کی منی سے پیدا کیا گیا ہے جو مرد کی پیٹھ سے اور عورت کی چھاتی سے نکلتی ہے، عورت کا یہ پانی زرد رنگ کا اور پتلا ہوتا ہے اور دونوں سے بچہ کی پیدائش ہوتی ہے۔ «تَّرَائِبُ» کہتے ہیں ہار کی جگہ کو کندھوں سے لے کر سینے تک کو بھی کہا گیا ہے اور نرخرے سے نیچے کو بھی کہا گیا ہے اور چھاتیوں سے اوپر کے حصہ کو بھی کہا گیا ہے اور نیچے کی طرف چار پسلیوں کو بھی کہا گیا ہے اور دونوں چھاتیوں اور دونوں پیروں اور دونوں آنکھوں کے درمیان کو بھی کہا گیا ہے، دل کے نچوڑ کو بھی کہا گیا ہے، سینہ اور پیٹھ کے درمیان کو بھی کہا جاتا ہے وہ اس کے لوٹانے پر قادر ہے یعنی نکلے ہوئے پانی کو اس کی جگہ واپس پہنچا دینے پر اور یہ مطلب کہ اسے دوبارہ پیدا کر کے آخرت کی طرف لوٹانے پر بھی پچھلا قول ہی اچھا ہے۔ اور یہ دلیل کئی مرتبہ بیان ہو چکی ہے پھر فرمایا کہ قیامت کے دن پوشیدگیاں کھل جائیں گی راز ظاہر ہو جائیں گے بھید آشکار ہو جائیں گے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہر غدار کی رانوں کے درمیان اس کے غدار کا جھنڈا گاڑ دیا جائے گا اور اعلان ہو جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی غداری ہے“ }۔ ۱؎[صحیح بخاری:6178] اس دن نہ تو خود انسان کو کوئی قوت حاصل ہو گی نہ اس کا کوئی مددگار کوئی اور کھڑا ہو گا یعنی نہ تو خود اپنے آپ کو عذابوں سے بچا سکے گا نہ کوئی اور ہو گا جو اسے اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔