اس آیت کی تفسیر آیت 11 میں تا آیت 13 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
12۔ 1 یعنی زمین پھٹتی ہے تو اس سے پودا باہر نکلتا ہے، زمین پھٹتی ہے تو اس سے چشمہ جاری ہوتا ہے اور اسی طرح ایک دن آئے گا کہ زمین پھٹے گی، سارے مردے زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے۔ اس لیے زمین کو پھٹنے والی اور شگاف والی کہا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
12۔ اور زمین کی جو پھٹ [10] جاتی ہے
[10]﴿ذَاتالصَّدْعِ﴾﴿صدع﴾ کے معنی کسی چیز کا اس طرح پھٹنا ہے کہ ٹکڑا جدا نہ ہو اور بقول امام راغب ٹھوس اجسام جیسے لوہا، شیشہ، زمین وغیرہ میں شگاف یا سوراخ ہو جاتا ہے اور زمین کو اس لیے ﴿ذات الصدع﴾ کہا گیا ہے کہ وہ پودوں اور درختوں کی نرم و نازک کونپلوں کو پھٹ کر زمین سے باہر نکلنے کا راستہ دے دیتی ہے۔ علاوہ ازیں اس سے پانی کے چشمے بھی پھوٹ نکلتے ہیں۔ حالانکہ زمین ٹھوس اور سخت چیز ہے اور پانی سیال اور زمین کے مقابلہ میں بہت نرم اور کمزور۔ اس کے باوجود زمین پھٹ کر پانی کو باہر نکلنے کا راستہ دے دیتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
صداقت قرآن کا ذکر ٭٭
«رَجْعِهِ» کے معنی بارش، بارش والے بادل، برسنے، ہر سال بندوں کی روزی لوٹانے والے، جس کے بغیر انسان اور ان کے جانور ہلاک ہو جائیں، سورج، چاند اور ستاروں کے ادھر ادھر لوٹنے کے مروی ہیں، زمین پھٹتی ہے تو دانے گھاس اور چارہ نکلتا ہے۔ یہ قرآن حق ہے عدل کا مظہر ہے یہ کوئی عذر قصہ باتیں نہیں کافر اسے جھٹلاتے ہیں اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں طرح طرح کے مکر و فریب سے لوگوں کو قرآن کے خلاف اکساتے ہیں۔ اے نبی! تو انہیں ذرا سی ڈھیل دے پھر عنقریب دیکھ لے گا کہ کیسے کیسے بدترین عذابوں میں پکڑے جاتے ہیں جیسے اور جگہ ہے «نُمَتِّعُهُمْقَلِيلًاثُمَّنَضْطَرُّهُمْإِلَىٰعَذَابٍغَلِيظٍ»۱؎[31-لقمان:24] یعنی ’ ہم انہیں کچھ یونہی سا فائدہ دیں گے پھر نہایت سخت عذاب کی طرف انہیں بے بس کر دیں گے ‘۔ «الْحَمْدُلِلَّـه» سورۃ الطارق کی تفسیر ختم ہوئی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔