(آیت 12،11){ وَالسَّمَآءِذَاتِالرَّجْعِ …: ”الرَّجْعِ“} کی تفسیر مجاہد نے بارش کی ہے۔ [دیکھیے بخاري، التفسیر، باب سورۃ الطارق، بعد ح: ۴۹۴۰] اکثر مفسرین نے یہی معنی کیا ہے۔ {”الرَّجْعِ“} کا لفظی معنی لوٹنا یا لوٹانا ہے، چونکہ بارش بار بار پلٹ کر برستی ہے، اس لیے اسے ”رجع “ کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ سمندر کا پانی بھاپ بنتا ہے، وہ بھاپ پلٹ کر پھر بارش کی صورت میں برستی ہے، پھر وہ پانی اڑتا ہے پھر برستا ہے، اس لیے اسے ”رجع “ کہا ہے۔ {”الصَّدْعِ“} کا معنی پھٹنا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
11۔ 1 عرب بارش کو رجع کہتے ہیں اس لئے بارش کو رَجْع کہا اور بطور شگون عرب بارش کو کہتے تھے تاکہ وہ بار بار ہوتی رہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
11۔ قسم ہے آسمان کی جو بار بار بارش برساتا [9] ہے
[9]﴿ذات الرجع﴾ رجوع کے معنی اپنی اصل کی طرف لوٹنا ہے مگر مجازاً﴿رجع﴾ کا لفظ بارش کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور آسمان کو ﴿ذات الرجع﴾ کہنے کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ سمندر سے آبی بخارات اٹھتے ہیں وہ جب آسمان کی بلندیوں پر پہنچتے ہیں تو ان بلندیوں کی ٹھنڈک ان آبی بخارات کو پھر سے پانی میں تبدیل کر دیتی ہے اور بارش شروع ہوتی ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ بارش برسنے کا عمل فقط ایک بار ہی نہیں ہوتا بلکہ بار بار اور وقتاًفوقتاً ہوتا ہی رہتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
صداقت قرآن کا ذکر ٭٭
«رَجْعِهِ» کے معنی بارش، بارش والے بادل، برسنے، ہر سال بندوں کی روزی لوٹانے والے، جس کے بغیر انسان اور ان کے جانور ہلاک ہو جائیں، سورج، چاند اور ستاروں کے ادھر ادھر لوٹنے کے مروی ہیں، زمین پھٹتی ہے تو دانے گھاس اور چارہ نکلتا ہے۔ یہ قرآن حق ہے عدل کا مظہر ہے یہ کوئی عذر قصہ باتیں نہیں کافر اسے جھٹلاتے ہیں اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں طرح طرح کے مکر و فریب سے لوگوں کو قرآن کے خلاف اکساتے ہیں۔ اے نبی! تو انہیں ذرا سی ڈھیل دے پھر عنقریب دیکھ لے گا کہ کیسے کیسے بدترین عذابوں میں پکڑے جاتے ہیں جیسے اور جگہ ہے «نُمَتِّعُهُمْقَلِيلًاثُمَّنَضْطَرُّهُمْإِلَىٰعَذَابٍغَلِيظٍ»۱؎[31-لقمان:24] یعنی ’ ہم انہیں کچھ یونہی سا فائدہ دیں گے پھر نہایت سخت عذاب کی طرف انہیں بے بس کر دیں گے ‘۔ «الْحَمْدُلِلَّـه» سورۃ الطارق کی تفسیر ختم ہوئی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔