اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۬ؕؑ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡکَبِیۡرُ ﴿ؕ۱۱﴾
بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہ رہی ہیں، یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
En
(اور) جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ یہ ہی بڑی کامیابی ہے
En
بیشک ایمان قبول کرنے والوں اور نیک کام کرنے والوں کے لئے وه باغات ہیں۔ جن کے نیچے بہریں بہہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 11){ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ …:} یہاں ایمان و عمل صالح والے لوگوں کے لیے جنت کی بشارت کے ذکر کی دو مناسبتیں ہیں، ایک تو یہ کہ اگر مسلمانوں کو ستانے والے لوگ بھی ایمان لا کر صالح عمل والے بن جائیں تو ان کے لیے بھی وہ باغات ہیں جن کے تلے نہریں بہتی ہیں۔ دوسری یہ کہ ایمان اور عمل صالح کے حامل جن مسلمانوں کو آزمائش کی بھٹیوں میں جھونکا جارہا ہے وہ غم نہ کریں، یہ وقت گزر جانے والا ہے، آخرت میں ان کے لیے وہ عظیم الشان باغات تیار ہیں جن کے تلے نہریں بہ رہی ہیں اور سب سے بڑی کامیابی یہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان والوں کو آزمائشوں اور مصیبتوں میں ثابت قدم رکھنے والی چیز اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ انھیں جنت دے گا۔ کس قدر ظالم ہیں وہ لوگ جو روحانیت کا لبادہ اوڑھ کر جنت کا مذاق اڑاتے اور اسے بے وقعت قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ سجدہ کی آیت (۱۶) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
11۔ بلا شبہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے ان کے لیے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں [7] یہی بڑی کامیابی ہے
[7] ساتھ ہی مومن مردوں اور عورتوں کو تسلی دی گئی کہ وہ کفار کی ایذا رسانیوں سے گھبرائیں نہیں۔ ان سے پہلے بھی مومنوں پر بڑے بڑے مصائب ڈھائے جا چکے ہیں۔ ان مصائب کو برداشت کرنے کے عوض انہیں اللہ کے ہاں سے جو باغات اور نعمتیں ملنے والی ہیں۔ جن کے مقابلہ میں اس دنیا کی سب تکلیفیں اور مصیبتیں ہیچ ہیں۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
عرش کا مالک اپنے بندوں سے بہت پیار کرتا ہے ٭٭
اپنے دشمنوں کا انجام بیان کر کے اپنے دوستوں کا نتیجہ بیان فرما رہا ہے کہ ’ ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ان جیسی کامیابی اور کسے ملے گی؟ ‘
پھر فرمایا ہے کہ ’ تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے وہ اپنے ان دشمنوں کو جو اس کے رسولوں کو جھٹلاتے رہے اور ان کی نافرمانیوں میں لگے رہے سخت تر قوت کے ساتھ اس طرح پکڑے گا کہ کوئی راہ نجات ان کے لیے باقی نہ رہے، وہ بڑی قوتوں والا ہے جو چاہا کیا جو کچھ چاہتا ہے وہ ایک لمحہ میں ہو جاتا ہے اس کی قدرتوں اور طاقتوں کو دیکھ کر اس نے تمہیں پہلے بھی پیدا کیا اور پھر بھی مار ڈالنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے گا نہ اسے کوئی روکے نہ آگے آئے نہ سامنے پڑے وہ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے بشرطیکہ وہ اس کی طرف جھکیں اور توبہ کریں اور اس کے سامنے ناک رگڑیں پھر چاہے کیسی ہی خطائیں ہوں ایک دم میں سب معاف ہو جاتی ہیں، اپنے بندوں سے وہ پیار و محبت رکھتا ہے وہ عرش والا ہے جو عرش تمام مخلوق سے بلند و بالا ہے اور تمام خلائق کے اوپر ہے۔ ‘
مجید کی دو قرأتیں ہیں دال کا پیش بھی اور دال کا زیر بھی پیش کے ساتھ وہ اللہ کی صفت بن جائے گا اور زیر کے ساتھ عرش کی صفت ہے معنی دونوں کے بالکل صحیح اور ٹھیک بیٹھتے ہیں وہ جس کام کا جب ارادہ کرے کرنے پر قدرت رکھتا ہے اس کی عظمت عدالت حکمت کی بنا پر نہ کوئی اسے روک سکے نہ اس سے پوچھ سکے۔
سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے ان کی اس بیماری میں جس میں آپ کا انتقال ہوتا ہے لوگ سوال کرتے ہیں کہ کسی طبیب نے بھی آپ کو دیکھا فرمایا: ہاں پوچھا: پھر کیا جواب دیا فرمایا کہ جواب دیا «إِنِّي فَعَّال لِمَا أُرِيد»
پھر فرماتا ہے کہ ’ کیا تجھے خبر بھی ہے کہ فرعونیوں اور ثمودیوں پر کیا کیا عذاب آئے اور کوئی ایسا نہ تھا کہ ان کی کسی طرح کی مدد کر سکتا نہ کوئی اور اس عذاب کو ہٹا سکا۔ ‘
مطلب یہ ہے کہ اس کی پکڑ سخت ہے جب وہ کسی ظالم کو پکڑتا ہے تو دردناکی اور سختی سے بڑی زبردست پکڑ پکڑتا ہے، ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کوئی بیوی صاحبہ قرآن پاک کی یہ آیت پڑھ رہی ہیں۔ «هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْجُــنُوْدِ» ۱؎ [85-البروج:17] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہ گئے اور کان لگا کر سنتے رہے اور فرمایا: { «نَعَمْ قَدْ جَاءَنِي» یعنی ہاں میرے پاس وہ خبریں آ گئیں۔ } ۱؎ [ضعیف جدا]
یعنی قرآن کی اس آیت کا جواب دیا کہ ’ کیا تجھے فرعونیوں اور ثمودیوں کی خبر پہنچی ہے؟ ‘ پھر فرمایا کہ ’ بلکہ کافر شک و شبہ میں کفر و سرکشی میں ہیں اور اللہ ان پر قادر اور غالب ہے نہ یہ اس سے گم ہو سکیں نہ اسے عاجز کر سکیں بلکہ یہ قرآن عزت اور کرامت والا ہے وہ لوح محفوظ کا نوشتہ ہے بلند مرتبہ فرشتوں میں ہے زیادتی کمی سے پاک اور سرتاپا محفوظ ہے نہ اس میں تبدیلی ہو نہ تحریف۔ ‘
پھر فرمایا ہے کہ ’ تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے وہ اپنے ان دشمنوں کو جو اس کے رسولوں کو جھٹلاتے رہے اور ان کی نافرمانیوں میں لگے رہے سخت تر قوت کے ساتھ اس طرح پکڑے گا کہ کوئی راہ نجات ان کے لیے باقی نہ رہے، وہ بڑی قوتوں والا ہے جو چاہا کیا جو کچھ چاہتا ہے وہ ایک لمحہ میں ہو جاتا ہے اس کی قدرتوں اور طاقتوں کو دیکھ کر اس نے تمہیں پہلے بھی پیدا کیا اور پھر بھی مار ڈالنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے گا نہ اسے کوئی روکے نہ آگے آئے نہ سامنے پڑے وہ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے بشرطیکہ وہ اس کی طرف جھکیں اور توبہ کریں اور اس کے سامنے ناک رگڑیں پھر چاہے کیسی ہی خطائیں ہوں ایک دم میں سب معاف ہو جاتی ہیں، اپنے بندوں سے وہ پیار و محبت رکھتا ہے وہ عرش والا ہے جو عرش تمام مخلوق سے بلند و بالا ہے اور تمام خلائق کے اوپر ہے۔ ‘
مجید کی دو قرأتیں ہیں دال کا پیش بھی اور دال کا زیر بھی پیش کے ساتھ وہ اللہ کی صفت بن جائے گا اور زیر کے ساتھ عرش کی صفت ہے معنی دونوں کے بالکل صحیح اور ٹھیک بیٹھتے ہیں وہ جس کام کا جب ارادہ کرے کرنے پر قدرت رکھتا ہے اس کی عظمت عدالت حکمت کی بنا پر نہ کوئی اسے روک سکے نہ اس سے پوچھ سکے۔
سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے ان کی اس بیماری میں جس میں آپ کا انتقال ہوتا ہے لوگ سوال کرتے ہیں کہ کسی طبیب نے بھی آپ کو دیکھا فرمایا: ہاں پوچھا: پھر کیا جواب دیا فرمایا کہ جواب دیا «إِنِّي فَعَّال لِمَا أُرِيد»
پھر فرماتا ہے کہ ’ کیا تجھے خبر بھی ہے کہ فرعونیوں اور ثمودیوں پر کیا کیا عذاب آئے اور کوئی ایسا نہ تھا کہ ان کی کسی طرح کی مدد کر سکتا نہ کوئی اور اس عذاب کو ہٹا سکا۔ ‘
مطلب یہ ہے کہ اس کی پکڑ سخت ہے جب وہ کسی ظالم کو پکڑتا ہے تو دردناکی اور سختی سے بڑی زبردست پکڑ پکڑتا ہے، ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کوئی بیوی صاحبہ قرآن پاک کی یہ آیت پڑھ رہی ہیں۔ «هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْجُــنُوْدِ» ۱؎ [85-البروج:17] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہ گئے اور کان لگا کر سنتے رہے اور فرمایا: { «نَعَمْ قَدْ جَاءَنِي» یعنی ہاں میرے پاس وہ خبریں آ گئیں۔ } ۱؎ [ضعیف جدا]
یعنی قرآن کی اس آیت کا جواب دیا کہ ’ کیا تجھے فرعونیوں اور ثمودیوں کی خبر پہنچی ہے؟ ‘ پھر فرمایا کہ ’ بلکہ کافر شک و شبہ میں کفر و سرکشی میں ہیں اور اللہ ان پر قادر اور غالب ہے نہ یہ اس سے گم ہو سکیں نہ اسے عاجز کر سکیں بلکہ یہ قرآن عزت اور کرامت والا ہے وہ لوح محفوظ کا نوشتہ ہے بلند مرتبہ فرشتوں میں ہے زیادتی کمی سے پاک اور سرتاپا محفوظ ہے نہ اس میں تبدیلی ہو نہ تحریف۔ ‘
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ لوح محفوظ اسرافیل کی پیشانی پر ہے، عبدالرحمٰن بن سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دنیا میں جو کچھ ہوا، ہو رہا ہے اور ہو گا وہ سب لوح محفوظ میں موجود ہے اور لوح محفوظ اسرافیل کی دونوں آنکھوں کے سامنے ہے لیکن جب تک انہیں اجازت نہ ملے وہ اسے دیکھ نہیں سکتے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { لوح محفوظ کی پیشانی پر یہ عبارت ہے، کوئی معبود نہیں بجز اللہ تعالیٰ کے، وہ اکیلا ہے اس کا دین اسلام ہے، محمد اس کے بندے ہیں اور اس کے رسول ہیں (صلی اللہ علیہ وسلم )، جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اس کے وعدے کو سچا جانے اس کے رسولوں کی تابعداری کرے اللہ عالم اسے جنت میں داخل کرے گا۔}
فرماتے ہیں یہ لوح سفید موتی کی ہے اس کا طول آسمان و زمین کے درمیان کے برابر ہے اور اس کی چوڑائی مشرق و مغرب کے برابر ہے، اس کے دونوں کنارے موتی اور یاقوت کے ہیں اس کے دونوں پٹھے سرخ یاقوت کے ہیں اس کا قلم نور ہے اس کا کلام عرش کے ساتھ وابستہ ہے اس کی اصل فرشتہ کی گود میں ہے۔ ۱؎ [لا اصل لہُ] مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اللہ کے عرش کے دائیں طرف ہے۔
طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { «إِنَّ اللَّه تَعَالَى خَلَقَ لَوْحًا مَحْفُوظًا مِنْ دُرَّة بَيْضَاء صَفَحَاتهَا مِنْ يَاقُوتَة حَمْرَاء قَلَمه نُور وَكِتَابه نُور لِلَّهِ فِيهِ فِي كُلّ يَوْم سِتُّونَ وَثَلَاثمِائَةِ لَحْظَة يَخْلُق وَيَرْزُق وَيُمِيت وَيُحْيِي وَيُعِزّ وَيُذِلّ وَيَفْعَل مَا يَشَاء» اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو سفید موتی سے پیدا کیا اس کے صفحے سرخ یاقوت کے ہیں اس کا قلم نور کا ہے اس کی کتابت نور کی ہے اللہ تعالیٰ ہر دن تین سو ساٹھ مرتبہ اسے دیکھتا ہے وہ پیدا کرتا ہے روزی دیتا ہے مارتا ہے زندگی دیتا ہے عزت دیتا ہے ذلت دیتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے۔} [طبرانی کبیر:12511:ضعیف]
«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۂ بروج کی تفسیر ختم ہوئی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { لوح محفوظ کی پیشانی پر یہ عبارت ہے، کوئی معبود نہیں بجز اللہ تعالیٰ کے، وہ اکیلا ہے اس کا دین اسلام ہے، محمد اس کے بندے ہیں اور اس کے رسول ہیں (صلی اللہ علیہ وسلم )، جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اس کے وعدے کو سچا جانے اس کے رسولوں کی تابعداری کرے اللہ عالم اسے جنت میں داخل کرے گا۔}
فرماتے ہیں یہ لوح سفید موتی کی ہے اس کا طول آسمان و زمین کے درمیان کے برابر ہے اور اس کی چوڑائی مشرق و مغرب کے برابر ہے، اس کے دونوں کنارے موتی اور یاقوت کے ہیں اس کے دونوں پٹھے سرخ یاقوت کے ہیں اس کا قلم نور ہے اس کا کلام عرش کے ساتھ وابستہ ہے اس کی اصل فرشتہ کی گود میں ہے۔ ۱؎ [لا اصل لہُ] مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اللہ کے عرش کے دائیں طرف ہے۔
طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { «إِنَّ اللَّه تَعَالَى خَلَقَ لَوْحًا مَحْفُوظًا مِنْ دُرَّة بَيْضَاء صَفَحَاتهَا مِنْ يَاقُوتَة حَمْرَاء قَلَمه نُور وَكِتَابه نُور لِلَّهِ فِيهِ فِي كُلّ يَوْم سِتُّونَ وَثَلَاثمِائَةِ لَحْظَة يَخْلُق وَيَرْزُق وَيُمِيت وَيُحْيِي وَيُعِزّ وَيُذِلّ وَيَفْعَل مَا يَشَاء» اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو سفید موتی سے پیدا کیا اس کے صفحے سرخ یاقوت کے ہیں اس کا قلم نور کا ہے اس کی کتابت نور کی ہے اللہ تعالیٰ ہر دن تین سو ساٹھ مرتبہ اسے دیکھتا ہے وہ پیدا کرتا ہے روزی دیتا ہے مارتا ہے زندگی دیتا ہے عزت دیتا ہے ذلت دیتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے۔} [طبرانی کبیر:12511:ضعیف]
«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۂ بروج کی تفسیر ختم ہوئی۔