ترجمہ و تفسیر — سورۃ البروج (85) — آیت 1
وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الۡبُرُوۡجِ ۙ﴿۱﴾
قسم ہے برجوں والے آسمان کی!
آسمان کی قسم جس میں برج ہیں
برجوں والے آسمان کی قسم!

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

یہ سورت مسلمانوں کو اہلِ مکہ کی ایذا رسانی پر صبر و استقامت کی تلقین کے لیے نازل ہوئی۔ اس مقصد کے لیے پہلی امتوں کے مسلمانوں کو پیش آنے والے شدید ترین امتحان اور اس پر ان کے صبر و ثبات اور انھیں ستانے والوں کے انجامِ بد کا تذکرہ فرمایا، تاکہ ان کے حالات سن کر انھیں تسلی ہو اور یقین ہو جائے کہ جس طرح اصحاب الاخدود مارے گئے اسی طرح وہ لوگ بھی مارے جائیں گے جو اب مسلمانوں کو امتحان میں ڈال رہے ہیں۔
(آیت 1) {وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ: الْبُرُوْجِ بُرْجٌ } کی جمع ہے، اس کا اصل معنی ہے نمایاں اور ظاہر ہونے والی چیز۔ { تَبَرَّجَ } کا معنی بے پردہ ہونا، ظاہر ہونا ہے۔ اس لیے بلند محل کو بُرج کہتے ہیں، شہر کی فصیل کے بلند حصوں کو بھی برج کہتے ہیں اور آسمان پر ستاروں کے اجتماع سے جو صورتیں نظر آتی ہیں انھیں بروج کہتے ہیں۔ وہ آسمانی ٹھکانے بھی بروج کہلاتے ہیں جن میں شیطانوں سے آسمان کی حفاظت کے لیے فرشتے پہرا دیتے ہیں۔ سورج اور چاند کی منزلوں کو بھی بروج کہا جاتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

برجوں والے آسمان کی قسم (1)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

1۔ برجوں والے آسمان [1] کی قسم
[1] آسمان اور اس کے برج :۔
بطلیموسی نظریہ ہیئت کے مطابق فلک ہشتم کو بارہ برجوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو دراصل ستاروں کے جھرمٹ یا مجمع النجوم (Constellations) ہیں۔ جنہیں دیکھنے سے ایک مخصوص تصور یا شکل ذہن میں آجاتی ہے۔ ان برجوں کے ناموں سے ہی ان کی شکلوں کا کچھ نہ کچھ تصور ذہن میں آجاتا ہے۔ ان کے نام درج ذیل شعر میں منظوم کیے گئے ہیں۔ حمل و ثور و جوزا، سرطان و اسد سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، جدی دلو و حوت انہیں بروج کے متعلق اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحجر کی آیت نمبر 10 میں فرمایا: ”اور ہم نے آسمان میں برج بنائے اور اس آسمان کو دیکھنے والوں کے لیے سجا دیا“ اب اگر ایک عام قاری اس آیت میں بروج کے لفظ سے وہی بارہ برج مراد لیتا ہے جو اہل ہیئت نے فلک ہشتم پر بنا رکھے ہیں تو یہ اس کی مرضی ہے ورنہ آیت کا سیاق و سباق اس بات کی تائید نہیں کرتا کیونکہ ان برجوں میں سے اکثر برجوں کی اشکال کا زینت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ بھلا سرطان، بچھو، ترازو اور ڈول کیا خوبصورتی پیدا کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر علماء نے یہاں بروج سے ستارے اور سیارے مراد لیے ہیں۔ جو رات کے وقت آسمان کو زینت بخشتے ہیں۔ لغوی لحاظ سے ہم ہر نمایاں طور پر ظاہر ہونے والی چیز کو برج کہہ سکتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

سب سے افضل اور اعلیٰ دن اور ذکر ایک موحد کا ٭٭
«بروج» سے مراد بڑے بڑے ستارے ہیں جیسے کہ آیت «جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا» ۱؎ [25-الفرقان:61]‏‏‏‏ کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ «بروج» وہ ہیں جن میں حفاطت کرنے والے رہتے ہیں۔ یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آسمانی محل ہے، منہال بن عمرو رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد اچھی بناوٹ والے آسمان ہیں، ابن خیثمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد سورج چاند کی منزلیں ہیں جو بارہ ہیں کہ سورج ان میں سے ہر ایک میں ایک مہینہ چلتا رہتا ہے اور چاند ان میں سے ہر ایک میں دو دن اور ایک تہائی دن چلتا ہے تو یہ اٹھائیس دن ہوئے اور دو راتوں تک وہ پوشیدہ رہتا ہے، نہیں نکلتا۔
ابن ابی حاتم کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { «وَالْيَوْمِ الْمَوْعُودِ» سے مراد قیامت کا دن ہے اور «شَاهِدٍ» سے مراد جمعہ کا دن ہے، سورج جن جن دنوں میں نکلتا اور ڈوبتا ہے ان میں سے سب سے اعلیٰ اور افضل دن جمعہ کا دن ہے اس میں ایک ساعت ایسی ہے کہ اس میں بندہ جو بھلائی طلب کرے مل جاتی ہے اور جس برائی سے پناہ چاہے ٹل جاتی ہے اور «مَشْهُودٍ» سے مراد عرفہ کا دن ہے۔ } ابن خزیمہ میں بھی یہ حدیث ہے موسیٰ بن عبید زیدی اس کے راوی ہیں اور یہ ضعیف ہیں یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خود ان کے قول سے مروی ہے اور یہی زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ ۱؎ [ضعیف]‏‏‏‏
مسند میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے اور حضرات سے بھی یہ تفسیر مروی ہے اور ان میں اختلاف نہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ ۱؎ [مسند احمد:298/2:ضعیف]‏‏‏‏
اور روایت میں مرفوعاً مروی ہے کہ { جمعے کے دن کو جسے یہاں شاہد کہا گیا ہے یہ خاص ہمارے لیے بطور خزانے کے چھپا رکھا گیا تھا۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36840:ضعیف]‏‏‏‏
اور حدیث میں ہے کہ { تمام دنوں کا سردار جمعہ کا دن ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36850:مرسل]‏‏‏‏
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ شاہد سے مراد خود ذات محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور «مشہود» سے مراد قیامت کا دن ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ» ۱؎ [11-ھود:103]‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن کے لیے لوگ جمع کئے گئے ہیں اور یہ دن «مشہود» یعنی حاضر کیا گیا ہے‘۔
ایک شخص نے سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ «شاہد» اور «مشہود» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا تم نے کسی اور سے بھی پوچھا؟ اس نے کہا ہاں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے، فرمایا انہوں نے کیا جواب دیا؟ کہا قربانی کا دن اور جمعہ کا دن، کہا نہیں بلکہ مراد «شاہد» سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جیسے قرآن میں اور جگہ ہے «فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاءِ شَهِيْدًا» ۱؎ [4-النساء:41]‏‏‏‏ یعنی ’ کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت میں سے گواہ لائیں گے اور تجھے ان پر گواہ بنائیں گے ‘ اور «مشہود» سے مراد قیامت کا دن ہے قرآن کہتا ہے «وَذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ» ۔
یہ بھی مروی ہے کہ «شاہد» سے مراد ابن آدم اور «مشہود» سے مراد قیامت کا دن اور «مشہود» سے مراد جمعہ بھی مروی ہے اور «شاہد» سے مراد خود اللہ بھی ہے اور عرفہ کا دن بھی ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جمعہ کے دن مجھ پر بکثرت درود پڑھا کرو وہ «مشہود» دن ہے جس پر فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36867:ضعیف]‏‏‏‏
سعید بن جیبر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «شاہد» اللہ ہے قرآن کہتا ہے «وَكَفٰى باللّٰهِ شَهِيْدًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [48-الفتح:28]‏‏‏‏ اور «مشہود» ہم ہیں قیامت کے دن ہم سب اللہ کے سامنے حاضر کر دئیے جائیں گے اکثر حضرات کا یہ فرمان ہے کہ «شاہد» جمعہ کا دن ہے اور «مشہود» عرفے کا دن ہے۔
ان قسموں کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ ’ خندقوں والوں پر لعنت ہو۔ ‘ یہ کفار کی ایک قوم تھی جنہوں نے ایمان داروں کو مغلوب کر کے انہیں دین سے ہٹانا چاہا اور ان کے انکار پر زمین میں گڑھے کھود کر ان میں لکڑیاں بھر کر آگ بھڑکائی پھر ان سے کہا کہ اب بھی دین سے پلٹ جاؤ لیکن ان با خدا لوگوں نے انکار کیا اور ان ناخدا ترس کفار نے ان مسلمانوں کو اس بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دیا، اسی کو بیان کیا جاتا ہے کہ ’ یہ لوگ ہلاک ہوئے یہ ایندھن بھری بھڑکتی ہوئی آگ کی خندقوں کے کناروں پر بیٹھے ان مومنوں کے جلنے کا تماشا دیکھ رہے تھے۔‘