(آیت 6){ يٰۤاَيُّهَاالْاِنْسَانُاِنَّكَكَادِحٌ …: ”كَادِحٌ“”كَدَحَيَكْدَحُ“} (ف) خوب کوشش کرنا، مشقت جھیلنا، زخمی کرنا۔ {”اِلٰى“} کے لفظ سے اس میں رب تعالیٰ کی طرف جانے کا مفہوم ادا ہو رہا ہے، یعنی اے انسان! تو زندگی بھر کسی نہ کسی کام کی مشقت میں مبتلا رہ کر آخر کار اچھے یا برے اعمال لے کر اپنے رب کے حضور پیش ہونے والا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
6۔ اے انسان تو تکلیف سہہ سہہ [4] کر کشاں کشاں اپنے پروردگار کی طرف جا رہا ہے پھر تو اس سے ملنے والا ہے
[4] ﴿كَدْحا﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿كَدْحاً﴾﴿كَدَحَ﴾ بمعنی کام میں بہت محنت کرنا۔ تکلیفیں سہہ سہہ کر کام کرنا۔ بمشقت کوئی کام کرتے جانا اور اس کی صورت یہ ہوتی کہ انسان کے دل میں ایک خواہش پیدا ہوتی ہے جسے پورا کرنے کے وہ درپے ہو جاتا ہے اور وہ کام ابھی پورا بھی نہیں ہو چکتا کہ کوئی اور خواہش یا خواہشیں انسان کے دل میں پیدا ہو جاتی ہیں۔ پھر وہ پہلی خواہش کی تکمیل کے بعد، بعد والی خواہش کی تکمیل کے لیے کمر ہمت باندھ لیتا ہے اور اسی طرح اس کی تمام زندگی بیت جاتی ہے۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ خواہش کرنے والا انسان ایک دنیا دار ہے اور اس کی تمام تر خواہشات کا محور دنیوی مفادات کا حصول ہے۔ یا وہ ایک دیندار اور اللہ کا فرمانبردار انسان ہے اور جو کچھ وہ کرتا ہے اپنے اخروی مفادات کے حصول کے لیے کرتا ہے۔ محنت مشقت کرنے اور تکلیفیں سہہ سہہ کر کام کرتے رہنے کے لحاظ سے دونوں کا طریقہ کار یکساں ہوتا ہے تاآنکہ اسے موت آلیتی ہے اور وہ خود بخود اللہ کے حضور پہنچ جاتا ہے۔ اب اگر کوئی شخص اپنی تگ و دو کے متعلق یہی سمجھتا رہے کہ یہ صرف دنیا کی زندگی تک ہی محدود ہے تو اس کی اس غلط سوچ سے حقیقت میں کچھ فرق نہیں پڑ جائے گا اور وہ اپنے پروردگار کے پاس پہنچ کر ہی دم لے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں