(آیت 20) {فَمَالَهُمْلَايُؤْمِنُوْنَ:} یعنی جب ایک حالت پر قرار نہیں تو یہ لوگ دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان کیوں نہیں لاتے؟ انھیں یہ ضد کیوں ہے کہ ہمیں مر کر اسی حال میں رہنا ہے؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
20۔ پھر انہیں کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایمان نہیں [15] لاتے
[15] یعنی کئی طرح کے تغیرات خود ان کی ذات پر وارد ہو رہے ہیں۔ اور کئی طرح کے تغیرات وہ کائنات میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں پھر بھی انہیں اس بات کا یقین نہیں آتا کہ اللہ کے سامنے بالکل مجبور و بے بس ہیں۔ وہ کچھ ہو گا جو اللہ چاہے گا۔ ان کے چاہنے نہ چاہنے سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ انہیں بہرحال اللہ کے فیصلہ کے مطابق اللہ کے حضور پیش ہونا پڑے گا اور اس سے یقیناً محاسبہ کیا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔