(آیت 15،14){ اِنَّهٗظَنَّاَنْلَّنْيَّحُوْرَ …: ”حَارَيَحُوْرُحَوْرًا“} (ن) لوٹنا۔ پیٹھ کے پیچھے اعمال نامہ ان لوگوں کو ملے گا جن کا خیال تھا کہ وہ دوبارہ زندہ نہیں ہوں گے اور نہ کوئی حساب کتاب ہوگا۔ فرمایا، کیوں نہیں! یقینا تمھارا حساب ضرور ہونا تھا، تمھارا رب تمھارے اعمال و اقوال اور احوال سب کچھ خوب دیکھ رہا تھا اور تمھارا اعمال نامہ بھی تیار کروا رہا تھا، مگر اس نے اپنی حکمت بالغہ کے تحت تمھیں مہلت دے رکھی تھی، اب وہ مہلت ختم ہو گئی، اب اپنے انکار اور بے فکری کا نتیجہ بھگتو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
14۔ اس نے سمجھ رکھا تھا کہ وہ قطعاً (میرے پاس) لوٹ [10] کر نہ آئے گا
[10] ﴿حار﴾ كا لغوی مفھوم :۔
﴿يَحُوْر﴾: ﴿حار﴾ بمعنی گھوم پھر کراسی جگہ واپس آجانا جہاں سے چلا تھا۔ گویا اس لفظ کے معنی میں دو باتیں بنیادی طور پر پائی جاتی ہیں۔ (1) گھومنا (2) رجوع کہتے ہیں۔ ﴿حار الماء﴾ فی الغدیر یعنی پانی حوض میں گھومنے لگا اور محور اس ڈنڈے کو کہتے ہیں جس کے گرد چرخی گھومتی ہے۔ یعنی اسے یہ خیال تک نہیں تھا کہ دنیا کے ان مختلف اقسام کے دھندوں کے بعد بالآخر مجھے اپنے پروردگار کے پاس ہی پہنچنا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔