ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانشقاق (84) — آیت 12

وَّ یَصۡلٰی سَعِیۡرًا ﴿ؕ۱۲﴾
اور بھڑکتی آگ میں داخل ہوگا ۔ En
اور وہ دوزخ میں داخل ہو گا
En
اور بھڑکتی ہوئی جہنم میں داخل ہوگا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 13،12) {وَ يَصْلٰى سَعِيْرًا (12) اِنَّهٗ كَانَ فِيْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًا:} اسے دنیا میں آخرت کا کوئی خوف نہ تھا، وہ اپنے بیوی بچوں اور دنیا کی نعمتوں میں ایسا مگن اور خوش تھا کہ پروردگار کے پاس حاضری کو بھول ہی گیا۔ نتیجہ یہ کہ آج جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا۔ اس کے برعکس اہل ایمان اپنی دنیا میں گزری ہوئی زندگی کو یاد کرکے کہیں گے: «‏‏‏‏اِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِيْۤ اَهْلِنَا مُشْفِقِيْنَ» ‏‏‏‏ [الطور: ۲۶] ہم اس سے پہلے اپنے گھر والوں میں ڈرنے والے تھے (کہ انجام کیا ہوگا)؟ آج وہ اپنے گھر خوش خوش لوٹیں گے، فرمایا: «‏‏‏‏وَ يَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًا» ‏‏‏‏ [الانشقاق: ۹] اور وہ اپنے گھر کی طرف خوش خوش واپس لوٹے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

12۔ اور بھڑکتی ہوئی آگ میں جا پڑے [8] گا
[8] بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ پکڑنے کے بعد اسے اپنا سارا انجام نظر آنے لگے گا لہٰذا وہ موت کو پکارے گا اور مرنے کی کوشش کرے گا مگر اسے موت کہاں میسر ہو گی۔ انسان اس دنیا میں مرنے پر مجبور ہے اس دنیا میں جینے پر مجبور ہو گا۔ وہ انہی خیالوں میں پڑا ہو گا کہ جہنم اسے اپنے قبضے میں لے لے گی اور وہ اس میں از خود گر پڑے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔