(آیت 33){ وَمَاۤاُرْسِلُوْاعَلَيْهِمْحٰفِظِيْنَ:} یہ ان لوگوں کی حماقت کی طرف اشارہ ہے کہ انھیں تو اپنے انجام کی فکر ہونی چاہیے تھی، اہلِ ایمان پر طنز کرنے اور مذاق اڑانے کا انھیں کیا حق تھا اور کس نے انھیں ان کی نگرانی پر مقرر کیا تھا؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
33۔ 1 یعنی یہ کافر مسلمانوں پر نگران بنا کر تو نہیں بھیجے گئے ہیں کہ ہر وقت مسلمانوں کے اعمال و احوال ہی دیکھتے اور ان پر تبصر کرتے رہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
33۔ حالانکہ وہ ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجے [19] گئے تھے
[19] یعنی اللہ نے انہیں مسلمانوں پر نگران بنا کر تو نہیں بھیجا تھا کہ ان کی نظروں میں مسلمانوں میں جو جو غلطیاں پائی جاتی ہیں ان کی وہ نشاندہی کیا کریں۔ یعنی اے کفار مکہ! اگر مسلمان تمہارے خیال کے مطابق غلط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں پھر بھی تمہیں تو کچھ نہیں کہتے۔ پھر کیا اللہ نے تمہیں ان پر فوجدار بنا کر تو نہیں بھیجا کہ اگر تمہیں نہیں ستاتے یا نہیں چھیڑتے تب بھی تمہیں یہ حق ہے کہ ان کو تنگ کرو۔ ان کا مذاق اڑاؤ اور ان پر پھبتیاں کسو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں