(آیت 4) {وَاِذَاالْقُبُوْرُبُعْثِرَتْ:} دوسرے نفخہ سے قبریں پھٹیں گی اور مردے زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
4۔ 1 یعنی قبروں سے مردے زندہ ہو کر نکل آئیں گے یا ان کی مٹی پلٹ دی جائے گی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
4۔ اور قبریں زیر و زبر کر دی [5] جائیں گی
[5] ﴿بعثر﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿بُعْثِرَتْ﴾﴿بعثر﴾ دراصل دو لفظوں کا مرکب ہے۔ بعث اور عثر کا۔ بعث کا ایک معنی (زمین وغیرہ کا) کھودنا اور ڈھونڈنا یا ڈھونڈھ نکالنا بھی ہے۔ اور عثر کے معنی کسی دوسری چیز کے دوران کسی اور چیز کا خود بخود ظاہر ہو جانا، کھل جانا یا سامنے آجانا۔ مطلب یہ ہے کہ جب قبروں کو الٹ پلٹ کیا اور کھودا جائے گا تو مردے خود بخود زمین سے باہر نکل پڑیں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں