«واذا البحار فجرت» : یہاں فرمایا کہ سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے، پچھلی سورت میں فرمایا بھڑکائے جائیں گے، تو دونوں باتیں ہی حق ہیں، پہلے قیامت کے شدید زلزلوں سے ساری زمین جا بجا پھٹ جائے گی، سمندر درمیان میں حائل رکاوٹیں ختم ہونے سے ایک ہو جائیں گے، پھر ان میں آگ لگ جائے گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
3۔ اور سمندر پھاڑ [4] دیئے جائیں گے
[4]﴿فُجِّرَتْ﴾﴿فجر﴾ بمعنی کسی چیز کو وسیع پیمانے پر پھاڑنا اور ﴿فجر﴾ کو ﴿فجر﴾ اس لیے کہتے ہیں کہ وہ سارے افق پر نمودار ہوتی ہے اور ﴿فجر﴾ کے معنی پانی وغیرہ کو پھاڑ کر وسیع علاقے تک چلانا یا جاری کرنا۔ گویا سمندروں کو پھاڑ کر اس کے پانی کو دور دور علاقوں پر زمین میں بہا دیا جائے گا۔ پیچھے سورت التکویر میں سمندروں کے لیے سُجّرَتْ کا لفظ آیا ہے۔ یعنی ان میں تلاطم بپا ہو جائے گا اور پانی باہر دور دور تک پھیل جائے گا۔ پھر یہی پانی گیسوں میں تبدیل ہو کر جلنے لگے گا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ بہرحال یہ مختلف اوقات کی مختلف حالتیں مذکور ہوئی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔