ترجمہ و تفسیر — سورۃ الإنفطار (82) — آیت 19

یَوۡمَ لَا تَمۡلِکُ نَفۡسٌ لِّنَفۡسٍ شَیۡئًا ؕ وَ الۡاَمۡرُ یَوۡمَئِذٍ لِّلّٰہِ ﴿٪۱۹﴾
جس دن کوئی جان کسی جان کے لیے کسی چیز کا اختیار نہ رکھے گی اور اس دن حکم صرف اللہ کا ہوگا۔ En
جس روز کوئی کسی کا بھلا نہ کر سکے گا اور حکم اس روز خدا ہی کا ہو گا
En
(وه ہے) جس دن کوئی شخص کسی شخص کے لئے کسی چیز کا مختار نہ ہوگا، اور (تمام تر) احکام اس روز اللہ کے ہی ہوں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 19){ يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْـًٔا …:} دنيا ميں بظاہر لوگوں کی كچھ ملكيت بهی ہے اور ايک حد تک نفع و ضرر كا اختيار بهی ہے، مگر قيامت كے دن الله كے علاوه نہ کسی کا اختیار رہے گا، نہ ملکیت اور نہ حکومت، جیساکہ فرمایا: «‏‏‏‏لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» [المؤمن: ۱۶] آج کے دن بادشاہی کس کی ہے؟ صرف اللہ کی جو ایک ہے، زبردست ہے۔ رہ گئی شفاعت تو وہ بھی کسی کے اختیار میں نہیں ہوگی، بلکہ صرف وہی کر سکے گا جسے اللہ تعالیٰ اجازت دے گا، فرمایا: «‏‏‏‏مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» [البقرۃ: ۲۵۵] کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے۔ مزید دیکھیے سورۂ نبا کی آیت (۳۸) کی تفسیر۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

19۔ 1 یعنی دنیا میں تو اللہ نے عارضی طور پر، آزمانے کے لئے، انسانوں کو کم و بیش کے کچھ فرق کے ساتھ اختیارات دے رکھے ہیں۔ لیکن قیامت والے دن تمام اختیارات صرف اور صرف اللہ کے پاس ہوں گے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

19۔ جس دن کوئی کسی دوسرے کے لیے کچھ بھی نہ [13] کر سکے گا اور اس دن حکم صرف اللہ کا چلے گا
[13] دنیا میں کئی طرح کے لوگوں کا دوسروں پر حکم چلتا ہے۔ مثلاً بادشاہوں کا اپنی رعیت پر، افسروں کا اپنے ماتحتوں پر، ماں باپ کا اپنی اولاد پر، مالک کا اپنے نوکر یا غلام پر مگر اس دن یہ سب حکم ختم ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی کو دم مارنے کی جرأت نہ ہو گی۔ بلا شرکت غیرے صرف اسی اکیلے کا اس دن حکم چلے گا جسے سب تسلیم کرنے پر مجبور ہوں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔