ترجمہ و تفسیر — سورۃ الإنفطار (82) — آیت 17

وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا یَوۡمُ الدِّیۡنِ ﴿ۙ۱۷﴾
اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ جزا کا دن کیا ہے؟ En
اور تمہیں کیا معلوم کہ جزا کا دن کیسا ہے؟
En
تجھے کچھ خبر بھی ہے کہ بدلے کا دن کیا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 18،17){ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الدِّيْنِ …:} قیامت کی عظمت و اہمیت ذہن میں بٹھانے کے لیے سوال اور پھر تکرار سوال ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

17۔ اور آپ کیا جانیں کہ روز جزا [12] کیا ہے؟
[12] یعنی آپ خواہ کتنا ہی سوچیں اور غور کریں اس ہولناک دن کی پوری کیفیت کبھی سمجھ میں نہیں آسکتی۔ مختصراً یہ سمجھ لو کہ اس دن جتنے رشتے ناطے ہیں سب ختم ہو جائیں گے۔ ہر ایک کو بس اپنی ہی پڑی ہو گی۔ کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ نہ ہی اللہ کے اذن کے بغیر کوئی کسی کی سفارش کر سکے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔