ترجمہ و تفسیر — سورۃ التكوير (81) — آیت 8

وَ اِذَا الۡمَوۡءٗدَۃُ سُئِلَتۡ ۪ۙ﴿۸﴾
اور جب زندہ دفن کی گئی (لڑکی) سے پوچھا جائے گا۔ En
اور جب لڑکی سے جو زندہ دفنا دی گئی ہو پوچھا جائے گا
En
اور جب زنده گاڑی ہوئی لڑکی سے سوال کیا جائے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 9،8){ وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ …: الْمَوْءٗدَةُ } وہ لڑکی جسے زندہ دفن کر دیا گیا ہو۔ جاہلیت میں بعض عرب عار سے بچنے کے لیے لڑکیاں زندہ دفن کر دیتے تھے کہ دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائیں یا کوئی ان کا داماد نہ بنے۔ بعض فقر کی وجہ سے ایسا کرتے تھے اور بعض تو فقر کی وجہ سے لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کو قتل کر دیتے تھے۔ ہندوستان کے راجپوتوں اور بعض دوسری قوموں میں بھی یہ رواج رہا ہے، آج کل برتھ کنٹرول کے نام سے حکومتیں منظم طریقے سے یہ کام کر رہی ہیں۔ چین میں شہروں میں ایک بچے اور دیہاتوں میں صرف دو بچوں کی اجازت ہے۔ چونکہ اکثر لوگوں کو لڑکے مرغوب ہوتے ہیں، اس لیے لڑکی پیدا ہونے کی صورت میں کئی مائیں دودھ ہی نہیں پلاتیں اور اس طرح قتل کا ارتکاب کرتی ہیں۔ مسلمان ملکوں کے بعض حکمران بھی کفار کی ترغیب سے رزق کے وسائل کی کمی (املاق) کا بہانہ بنا کر تحدید نسل بلکہ مسلمانوں کی نسل کشی کی پوری کوشش کر رہے ہیں اور اس کے لیے ایسے طریقے پھیلا رہے ہیں جن سے بچہ پیدا ہونے کا امکان ہی ختم ہو جاتا ہے۔ مثلاً جرثومے اور بیضے کی رگ ہی کاٹ دینا اور دوسرے ناقابل بیان طریقے اور یہ کام اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لوگ کر رہے ہیں جس نے عزل (جماع کرتے ہوئے انزال کے وقت بیوی سے علیحدہ ہو جانے) کو بھی ناپسند فرمایا، حالانکہ عزل کی صورت میں حمل کا امکان رہتا ہے، کیونکہ منی کے جرثومے انزال سے پہلے بھی مذی کے ذریعے سے رحم میں داخل ہو سکتے ہیں اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حقیقت کا اظہار فرمایا کہ عزل کرو یا نہ کرو، جو بچہ پیدا ہونا ہے ہو کر رہے گا۔ اس کے باوجود ایک مرتبہ جب لوگوں نے آپ سے عزل کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ذٰلِکَ الْوَأْدُ الْخَفِيُّ وَھِيَ: «وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» ‏‏‏‏ [التکویر: ۸]] [مسلم، النکاح، باب جواز الغیلۃ…: ۱۴۱ /۱۴۴۲] یہ پوشیدہ طریقے کا زندہ دفن کرنا ہے اور یہ فعل اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وعید کے تحت آتا ہے کہ جب زندہ دفن کی ہوئی لڑکی سے سوال کیا جائے گا۔ مقصد یہ ہے کہ عزل میں امکان حمل کے باوجود اس کے تسلسل کا نتیجہ نسل انسانی کی ہلاکت ہے۔ اس حدیث سے منع حمل کے دوسرے ظالمانہ طریقوں کی وعید خود بخود سمجھ میں آرہی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

8۔ اور زندہ درگور لڑکی سے پوچھا [9] جائے گا
[9] زندہ درگور کرنے کی وجوہ اور اس رسم کا سد باب :۔
ایک قراءت میں ﴿سُئِلَتْ کے بجائے ﴿سَئَلَتْ بھی آیا ہے یعنی زندہ درگور کردہ لڑکی خود اپنے پروردگار سے فریاد کرے گی کہ مجھے کس جرم کی پاداش میں زمین میں گاڑا گیا تھا؟ لیکن ﴿سُئِلَت کی قرأت ﴿سَئَلَت سے زیادہ ابلغ ہے جس کا مطلب یہ ہے اللہ تعالیٰ ایسے بے رحم اور سنگدل ظالموں کی طرف نہ دیکھنا پسند کرے گا اور نہ ان سے بات کرنا پسند کرے گا بلکہ ان کے بجائے مظلوم لڑکی کی طرف متوجہ ہو کر اس سے پوچھا جائے گا کہ اسے کس جرم کی پاداش میں قتل کیا گیا تھا؟ اور یہ انداز خطاب اللہ تعالیٰ کا مجرموں پر انتہائی غضب ناک ہونے پر دلیل ہے۔ رہی یہ بات کہ اہل عرب اتنے سنگدل کیوں واقع ہوئے تھے جو اپنی بیٹیوں کو اس قدر حقیر جنس تصور کرتے تھے کہ انہیں زندہ گاڑ دیتے تھے؟ تو اس کا بیان پہلے متعدد مقامات پر گزر چکا ہے۔ مختصراً اس کی تین وجوہ تھیں۔
(1) وہ تنگدست اور مفلس ہو جانے کے خطرہ سے اولاد کو مار ڈالتے تھے اور اس وجہ کے لحاظ سے لڑکوں اور لڑکیوں میں کوئی فرق نہ تھا۔
(2) وہ کسی کو اپنا داماد بنانا اپنے لیے باعث ننگ و عار سمجھتے تھے۔
(3) اور تیسری اور سب سے اہم وجہ یہ تھی کہ اہل عرب ہر وقت قبائلی جنگوں میں مشغول رہتے تھے اور ایسی جنگوں میں نرینہ اولاد تو ان کی جانشین یا مددگار بنتی تھی۔ مگر لڑکیوں کا معاملہ لڑکوں سے بالکل الگ تھا۔ وہ جس قبیلہ میں بیاہی جاتیں انہیں اسی کا ساتھ دینا پڑتا تھا اور لڑکی کے والدین کے قبیلہ کو اس کے آگے سرنگوں ہونا پڑتا تھا۔ اور غالباً یہی وجہ تھی کہ اہل عرب نے لڑکیوں کو وراثت سے محروم کر رکھا تھا۔ اسلام نے اس نظریہ کو ختم کرنے کے لیے دو طرفہ اقدام کیے۔ ایک تو قتل اولاد اور لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے کو عام قتل سے بھی زیادہ شدید جرم قرار دیا اور لوگوں کے اس خیال کی پرزور تردید کی کہ وہ اپنی اولاد کو مار ڈالنے کا حق رکھتے ہیں۔ اور دوسرے لڑکیوں کی تربیت اور پرورش کو بہت بڑا نیک عمل قرار دے کر اس کی ترغیب دی۔ چنانچہ سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ آپ نے فرمایا: جو شخص ان لڑکیوں کی پیدائش سے آزمائش میں ڈالا جائے۔ پھر وہ ان سے نیک سلوک کرے تو یہ لڑکیاں اس کے لیے جہنم کے عذاب سے بچاؤ کا ذریعہ بنیں گی۔ [ترمذی۔ ابواب البروالصلۃ۔ باب ماجاء فی النفقات علی البنات]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔