(آیت 7){ وَاِذَاالنُّفُوْسُزُوِّجَتْ:} ”اور جب جانیں ملائی جائیں گی“ اس کی دو تفسیریں ہیں، پہلی یہ کہ جانیں جسموں کے ساتھ ملائی جائیں گی۔ یہاں سے دوسرے نفخہ کے بعد کے حالات ہیں، تو سب دوبارہ زندہ ہو جائیں گے۔ دوسری یہ کہ جانوں کی قسمیں بنا دی جائیں گی، نیکوں کو نیکوں کے ساتھ اور گناہ گاروں کو گناہ گاروں کے ساتھ ملا دیا جائے گا، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اُحْشُرُواالَّذِيْنَظَلَمُوْاوَاَزْوَاجَهُمْوَمَاكَانُوْايَعْبُدُوْنَ» [الصافات: ۲۲]”جمع کرو ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا اور ان کے ہم شکلوں کو اور ان کو جن کی وہ عبادت کیا کرتے تھے۔“ دوسری تفسیر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمائی ہے۔ [دیکھیے بخاري، التفسیر، باب: «إذا الشمس کورت» ، بعد ح: ۴۹۳۷]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
7۔ 1 اس کے کئے مفہوم بیان کئے گئے ہیں۔ زیادہ قرین قیاس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان کو اس کے ہم مذہب وہم مشرب کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ مومنوں کو مومنوں کے ساتھ اور بد کو بدوں کے ساتھ یہودی کو یہودیوں کے ساتھ اور عیسائی کو عیسائیوں کے ساتھ۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
7۔ اور جانیں جسموں سے ملا دی [8] جائیں گی
[8] زوج کا لفظ بڑا وسیع المعنی ہے اور اس لحاظ سے اس آیت کے مطلب بھی متعدد ہو سکتے ہیں۔ مثلاً ایک یہ ہے کہ قیامت کے دن مردوں کے جسم کو ان کی قبروں سے اٹھا کر ان کے ارواح کو ان جسموں میں ملایا جائے گا اور یہی دوبارہ زندگی کا مفہوم ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جرائم کے لحاظ سے ان کے گروہ بنا دیئے جائیں گے۔ مثلاً مشرکوں کا گروہ الگ ہو گا، منافقون کا الگ، کافروں کا الگ، مومنوں کا الگ یا جیسے زانیوں کا الگ، قاتلوں کا الگ وغیرہ وغیرہ۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔