ترجمہ و تفسیر — سورۃ التكوير (81) — آیت 6

وَ اِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ ۪ۙ﴿۶﴾
اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے۔ En
اور جب دریا آگ ہو جائیں گے
En
اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 6){ وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ: سَجَرَ التَّنُّوْرَ} اس نے تنور جلایا۔ {سَجَّرَ} میں مبالغہ ہے، خوب بھڑکایا۔ سمندروں کے بھڑکائے جانے کی ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ زمین کے نیچے جو بے پناہ حرارت اور آگ ہے، جو آتش فشاں پہاڑوں کے بیدار ہونے کی صورت میں کبھی کبھی ظاہر ہوتی رہتی ہے، وہ اللہ کے حکم سے سمندروں کو بھڑکا کر انھیں بھاپ بنا کر اڑا دے گی۔ پھر پہاڑوں کی بلندی اور سمندروں کی گہرائی ختم ہوکر زمین ایک چٹیل میدان بن جائے گی۔ ایک صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ پانی آکسیجن اور ہائیڈروجن دو گیسوں کا مرکب ہے، جن میں سے ایک جلانے والی اور دوسری جلنے والی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ ہی کی عجیب قدرت ہے کہ ان دونوں کو ملا کر آگ بجھانے والا پانی بنا دیا ہے۔ قیامت کے وقت اللہ کے حکم سے ان دونوں کا ملاپ ختم ہو جائے گا اور وہ اپنے اصل کی طرف لوٹ کر بھڑکانے اور بھڑکنے لگیں گی، جس سے سمندروں کا یہ بے حساب پانی چشم زدن میں اڑ جائے گا۔ بہرحال اللہ کا حکم ہو گا تو سمندر آگ سے بھڑکنے لگیں گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

6۔ اور سمندر بھڑکائے [7] جائیں گے
[7] قیامت کو سمندروں کا انجام :۔
﴿سُجِّرَتْ ﴿سجر﴾ میں کسی چیز کے بھرے ہوئے ہونے اور اس میں مخالطت یا تلاطم کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ ﴿البحر المسجور﴾ سے مراد وہ سمندر ہے جو بھرا ہوا بھی ہو اور جوش تلاطم سے ابل بھی رہا ہو۔ اور ﴿سجّرالتنّور کے معنی تنور کو ایندھن سے بھر کر گرم کرنا تاکہ آگ پوری شدت سے بھڑک سکے اور سجور اس ایندھن کو کہتے ہیں جس سے تنور گرم کیا جائے۔ گویا ہر وہ چیز جو آگ میں شدت پیدا کرنے کے لیے تنور میں جھونک دی جائے وہ سجور ہے۔ اب دیکھیے کہ پانی دو گیسوں آکسیجن اور ہائیڈروجن کا مجموعہ ہے۔ ہائیڈروجن خود آتش گیر گیس ہے جو آگ دکھانے سے ہی فوراً بھڑک اٹھتی ہے اور آکسیجن آگ کو بھڑکنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ یہی دو گیسیں جب کیمیائی طریقہ سے ملائی جاتی ہیں تو جو پانی حاصل ہوتا ہے وہ ان گیسوں سے بالکل برعکس خاصیت رکھتا ہے اور آگ کو فوراً بجھا دیتا ہے۔ قیامت کے دن سمندروں کے پانی کو پھر سے انہی دو گیسوں میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ پھر ان میں آگ لگ جائے گی اور بالآخر وہ خشک ہو جائیں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔