(آیت 4) {وَاِذَاالْعِشَارُعُطِّلَتْ:”الْعِشَارُ“”عُشَرَاءُ“} کی جمع ہے، دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں جو عربوں کے ہاں نہایت عزیز ہوتی تھیں۔صور پھونکے جانے کی ابتدا میں جو گھبراہٹ پیدا ہوگی اس میں اتنی نفیس اور عزیز چیزوں کو بھی کوئی نہیں سنبھالے گا، ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
4۔ 1 جب قیامت برپا ہوگی تو ایسا ہولناک منظر ہوگا کہ اگر کسی کے پاس اس قسم کی حاملہ اور قیمتی اونٹنی بھی ہوگی تو وہ ان کی پرواہ نہیں کرے گا اور چھوڑ دے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
4۔ اور دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں [5] اپنے حال پر چھوڑ دی جائیں گی
[5] اہل عرب کے نزدیک اونٹ ایک قیمتی متاع سمجھا جاتا تھا اور دس ماہ کی حاملہ اونٹنی تو ان کے ہاں نہایت عزیز متاع تھی اس لیے کہ وہ ایک دو ماہ بعد بچہ بھی جنے گی اور دودھ بھی دیا کرے گی۔ اس آیت میں بتایا یہ جا رہا ہے کہ قیامت کی دہشت اتنی زیادہ ہو گی کہ انسان کو اپنی قیمتی متاع سنبھالنے کا بھی ہوش نہ رہے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔