(آیت 3) {وَاِذَاالْجِبَالُسُيِّرَتْ:} اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو زمین کے اندر گاڑ رکھا ہے اور زمین میں وہ کشش رکھی ہے جو انھیں باندھ کر رکھے ہوئے ہے۔ اللہ کے حکم سے قیامت کے دن وہ کشش ختم ہو جائے گی اور یہ جامد پہاڑ دھنی ہوئی اُون کی طرح ذرّہذرّہ ہو کر بادلوں کی طرح چل پڑیں گے، حتیٰ کہ سراب کی طرح ہو جائیں گے، جیساکہ فرمایا: «وَسُيِّرَتِالْجِبَالُفَكَانَتْسَرَابًا»[النبا: ۲۰]”اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ سراب بن جائیں گے۔“ مزید تفصیل کے لیے سورۂ نبا کی اسی آیت کی تفسیر دیکھیے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
3۔ 1 یعنی انہیں زمین سے اکھیڑ کر ہواؤں میں چلا دیا جائے گا اور دھنی ہوئی روئی کی طرح اڑیں گے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
3۔ اور پہاڑ چلائے [4] جائیں گے
[4] یعنی زمین کی کشش ثقل ختم ہو جائے گی تو پہاڑوں کی زمین میں جڑیں بھی ڈھیلی پڑ جائیں گی۔ پہلے تو پہاڑ ٹوٹ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ بعد ازاں ان کی بھر بھری ریت کو ہوا ادھر سے ادھر اڑاتی پھرے گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔