(آیت 29){ وَمَاتَشَآءُوْنَاِلَّاۤاَنْيَّشَآءَاللّٰهُرَبُّالْعٰلَمِيْنَ:} یعنی تمھارا چاہنا بھی اللہ کے چاہنے اور توفیق دینے پر موقوف ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ یونس (۱۰۰)، انعام (۱۱۲)، قصص (۵۶) اور دہر (۳۰)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
29۔ 1 یعنی تمہاری چاہت، اللہ کی توفیق پر منحصر ہے، جب تک تمہاری چاہت کے ساتھ اللہ کی مشیت اور اس کی توفیق بھی شامل نہیں ہوگی اس وقت تک تم سیدھا راستہ اختیار نہیں کرسکتے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
29۔ اور تم چاہ نہیں سکتے مگر وہی کچھ جو اللہ رب العالمین [23] چاہتا ہو
[23] یعنی تمہارا ارادہ اور تمہارا چاہنا وہی ہوتا ہے جس کا اللہ کو پہلے سے ہی علم ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ علم تمہیں اس بات پر مجبور نہیں کرتا ہے کہ تم وہی کام کرو جو پہلے سے اللہ کے علم میں ہے۔ مزید وضاحت کے لیے دیکھئے، سورۃ اعراف کی آیت نمبر 24 کا حاشیہ 21۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔