(آیت 23) {وَلَقَدْرَاٰهُبِالْاُفُقِالْمُبِيْنِ:} روشن کنارے سے مراد آسمان کا مشرقی کنارا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے، ایک دفعہ زمین پر اور دوسری دفعہ آسمان پر۔ (دیکھیے نجم:۱ تا ۱۸) یہاں پہلی مرتبہ کا ذکر ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے اور پورا افق ان سے بھرا ہوا تھا۔ [دیکھیے بخاري، بدء الخلق، باب إذا قال أحدکم أمین…: ۳۲۳۲ تا ۳۲۳۵]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
23۔ 1 یہ پہلے گزر چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرائیل ؑ کو دو مرتبہ ان کی اصل حالت میں دیکھا ہے، جن میں سے ایک یہاں ذکر ہے۔ یہ ابتدائے نبوت کا واقع ہے، اس وقت حضرت جبرائیل ؑ کے چھ سو پر تھے، جنہوں نے آسمان کے کناروں کو بھر دیا تھا، دوسری مرتبہ معراج کے موقعہ پر دیکھا جیسا کہ سورة نجم میں تفصیل گزر چکی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
23۔ اور اس نے اس [18] (جبریل) کو روشن افق پر دیکھا ہے
[18] آپ کا جبرئیل کو پہلی بار دیکھنا :۔
اور دوسری چیز جس پر یہ تین قسمیں کھائی گئیں یہ ہے کہ اے کفار مکہ! تمہارے یہ ساتھی (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) دیوانے نہیں ہیں بلکہ دیوانے تم ہو رہے ہو جو یہ اقرار کرنے کے بعد کہ ہمیں اپنے اس ساتھی کے بارے میں جھوٹ یا فریب کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ اب اس کو حواس باختہ اور دیوانہ کہنے لگے ہو۔ اس نے رسول کریم یعنی جبرئیل امین کو اس وقت دیکھا تھا جب سپیدہ سحر کھل کر نمودار ہو چکا تھا اور ہر چیز صاف صاف نظر آنے لگی تھی۔ تاریکی کی بنا پر کسی شک و شبہ کا امکان باقی نہ رہا تھا۔ اس نے جبریل کو افق مبین، جسے سورۃ نجم میں افق اعلیٰ کہا گیا ہے، پر دیکھا تھا۔ جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ کی روایت ہے کہ آپ نے جبریل امین کو اس حال میں دیکھا تھا کہ پوری فضا میں ایک سبز فرش نظر آ رہا تھا اور اس نے آسمان کا کنارہ ڈھانپ لیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل کو ان کی اصلی شکل میں دیکھا تھا۔ ان کے چھ سو پر تھے۔ [بخاري۔ كتاب التفسير سورة النجم]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔