ترجمہ و تفسیر — سورۃ التكوير (81) — آیت 15

فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِالۡخُنَّسِ ﴿ۙ۱۵﴾
پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں ان (ستاروں) کی جو پیچھے ہٹنے والے ہیں ! En
ہم کو ان ستاروں کی قسم جو پیچھے ہٹ جاتے ہیں
En
میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 16،15) {فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ …: اَلْخُنَّسُ خَنَسَ} (ض) (پیچھے ہٹنا) سے {خَانِسٌ} کی جمع بروزن {رُكَّعٌ} ہے۔ {خَنَّاسٌ} بھی اسی سے ہے۔ اسی طرح { الْكُنَّسِ كَانِسٌ} کی جمع ہے۔ {كِنَاسٌ} ہرن وغیرہ کی درختوں میں بنائی ہوئی جگہ، جہاں وہ چھپ جاتے ہیں۔ {كَنَسَ} (ض) چھپنے کی جگہ میں داخل ہو گیا، چھپ گیا۔ { الْجَوَارِ جَرٰي يَجْرِيْ} سے {جَارِيَةٌ} کی جمع ہے۔ مراد سورج، چاند اور ستارے ہیں۔ انھیں {اَلْخُنَّسُ} (پیچھے ہٹنے والے) اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ سب مغرب میں غروب ہونے کے بعد پھر پیچھے یعنی مشرق کی طرف آنا شروع ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ مشرق سے دوبارہ نمودار ہو جاتے ہیں۔ { الْجَوَارِ } چلنے والے، یعنی ان کا کام ہی چلتے رہنا ہے، مغرب سے واپس مشرق کی طرف اور وہاں سے دوبارہ مغرب کی طرف۔ { الْكُنَّسِ } چھپنے والے، یعنی مغرب سے مشرق کی طرف چلتے ہوئے نظر نہیں آتے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

15۔ میں پیچھے ہٹ جانے والے ستاروں [14] کی قسم کھاتا ہوں
[14] بطلیموسی نظریہ ہیئت اور خمسہ متحیرہ :۔
مندرجہ بالا آیات میں بارہ واقعات کا ذکر کیا گیا۔ ان میں سے پہلی چھ آیات یا چھ واقعات قیامت کی ابتدا یا نفخٗ صور اول سے متعلق ہیں اور دوسرے چھ نفخہ صور ثانی یا میدان محشر سے تعلق رکھتے ہیں۔ اب اسی دنیا کے چند اہم امور کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے۔ بطلیموسی نظریہ ہیئت 400 قبل مسیح سے لے کر سترہویں صدی تک یعنی دو ہزار سال سے زیادہ عرصہ اتنا مقبول رہا کہ دنیا کے تمام مدارس اور یونیورسٹیوں میں اسی کی تعلیم دی جاتی رہی۔ اس نظریہ کے مطابق زمین کو ساکن اور سورج کو متحرک قرار دیا گیا۔ سات آسمان اور افلاک تسلیم کیے گئے اور ان پر سات سیارے۔ یعنی ہر فلک میں ایک سیارہ محو گردش ہے۔ اور اس نظریہ کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ آج بھی ہندو پاکستان میں جنتریاں اسی نظریہ کے مطابق تیار کی جاتی ہیں۔ اس نظریہ کے مطابق پہلے آسمان پر چاند، دوسرے پر زہرہ، تیسرے پر عطارد چوتھے پر سورج پانچویں پر مشتری، چھٹے پر مریخ اور ساتویں پر زحل گردش کرتے ہیں۔ چاند اور سورج کی گردش ہمیشہ سیدھی آگے کو رہتی ہے۔ جیسے فرمایا: ﴿وَسَخَّــرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَايِٕـبَيْنِ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ مگر باقی پانچ سیارے سیدھے آگے چلتے چلتے یکدم پیچھے ہٹنا شروع ہو جاتے ہیں یعنی الٹی چال چلنے لگتے ہیں۔ پھر آگے کو بڑھنے لگتے ہیں اور پھر کسی وقت غائب بھی ہو جاتے ہیں۔ ان سیاروں کو خمسہ متحیرہ کہتے ہیں۔ ان دو آیات میں غالباً انہی سیاروں کی قسم کھائی گئی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ستارے، نیل گائے اور ہرن ٭٭
سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { میں نے صبح کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سورۃ کی تلاوت کرتے ہوئے سنا اس نماز میں میں بھی مقتدیوں میں شامل تھا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:456]‏‏‏‏
یہ ستاروں کی قسمیں کھائی گئی ہیں، جو دن کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں یعنی چھپ جاتے ہیں، اور رات کو ظاہر ہوتے ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں اور بھی صحابہ تابعین وغیرہ سے اس کی یہی تفسیر مروی ہے -
بعض ائمہ نے فرمایا ہے طلوع کے وقت ستاروں کو «خُنَّسِ» کہا جاتا ہے اور اپنی اپنی جگہ پر انہیں «جَوَارِ» کہا جاتا ہے اور چھپ جانے کے وقت انہیں «كُُنَّسِ» کہا جاتا ہے۔ بعض نے کہا ہے اس سے مراد جنگلی گائے ہے، یہ بھی مروی ہے کہ مراد ہرن ہے۔
ابراہیم رحمہ اللہ نے مجاہد رحمہ اللہ سے اس کے معنی پوچھے تو مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہم نے اس بارے میں کچھ نہیں سنا البتہ لوگ کہتے ہیں کہ اس سے مراد ستارے ہیں۔‏‏‏‏ انہوں نے پھر سوال کیا کہ جو تم نے سنا ہو وہ کہو تو فرمایا ہم سنتے ہیں کہ اس سے مراد نیل گائے ہے، جبکہ وہ اپنی جگہ چھپ جائے۔‏‏‏‏ ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا وہ مجھ پر جھوٹ باندھتے ہیں، جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے «أَسْفَلَ» کو اعلیٰ اور اعلی کو «أَسْفَلَ» کا ضامن بنایا۔‏‏‏‏
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس میں سے کسی کی تعیین نہیں کی اور فرمایا ہے ممکن ہے تینوں چیزیں مراد ہوں یعنی ستارے، نیل گائے اور ہرن۔‏‏‏‏ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/467]‏‏‏‏
«عَسْعَسَ» کے معنی ہیں اندھیری والی ہوئی اور اٹھ کھڑی ہوئی، اور لوگوں کو ڈھانپ لیا اور جانے لگی۔ صبح کی نماز کے وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ نکلے اور فرمانے لگے کہ وتر کے بارے میں پوچھنے والے کہاں ہیں؟ پھر یہ آیت پڑھی۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہیں کہ رات جب جانے لگے کیونکہ اس کے مقابلہ میں ہے کہ جب صبح چمکنے لگے۔
شاعروں نے «عَسْعَسَ» کو «أَدْبَرَ» کے معنی میں باندھا ہے میرے نزدیک ٹھیک معنی یہ ہیں کہ قسم ہے رات کی جب وہ آئے اور اندھیرا پھیلائے اور قسم ہے دن کی جب وہ آئے اور روشنی پھیلائے۔
جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [92-الليل:2،1]‏‏‏‏
اور جگہ ہے «وَالضُّحَىٰ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ» ۱؎ [93-الضحى:2،1]‏‏‏‏
اور جگہ ہے «‏‏‏‏فَالِقُ الْاِصْبَاحِ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَنًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْـبَانًا ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ» ۱؎ [6-الأنعام:96]‏‏‏‏ اور بھی اس قسم کی آیتیں بہت سی ہیں مطلب سب کا یکساں ہے، ہاں بیشک اس لفظ کے معنی پیچھے ہٹنے کے ہی ہیں۔ علماء اصول نے فرمایا ہے کہ یہ لفظ آگے آنے اور پیچھے جانے کے دونوں معنی میں آتا ہے۔ اس بناء پر دونوں معنی ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ «واللہ اعلم»
’ اور قسم ہے صبح کی جبکہ وہ طلوع ہو اور روشنی کے ساتھ آئے ‘۔ پھر ان قسموں کے بعد فرمایا ہے کہ ’ یہ قرآن ایک بزرگ، شریف، پاکیزہ رو، خوش منظر فرشتے کا کلام ہے (‏‏‏‏یعنی جبرائیل علیہ السلام کا)، وہ قوت والے ہیں ‘۔
جیسے کہ اور جگہ ہے «عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [53-النجم:6،5]‏‏‏‏ یعنی ’ سخت مضبوط اور سخت پکڑ اور فعل والا فرشتہ، وہ اللہ عز و جل کے پاس جو عرش والا ہے بلند پایہ اور ذی مرتبہ ہے ‘۔
وہ نور کے ستر پردوں میں جا سکتے ہیں اور انہیں عام اجازت ہے۔ ان کی بات وہاں سنی جاتی ہے، برتر فرشتے ان کے فرمانبردار ہیں، آسمانوں میں ان کی سرداری ہے اور فرشتے ان کے تابع فرمان ہیں۔ وہ اس پیغام رسانی پر مقرر ہیں کہ اللہ کا کلام اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائیں، یہ فرشتے اللہ کے امین ہیں۔