(آیت 14) {عَلِمَتْنَفْسٌمَّاۤاَحْضَرَتْ:} شروع سورت سے یہاں تک کل بارہ چیزوں کا ذکر ہوا ہے، جب یہ بارہ چیزیں ہو جائیں گی تو کیا ہوگا؟ اس کا جواب ہے: «عَلِمَتْنَفْسٌمَّاۤاَحْضَرَتْ» کہ ہر جان جو کچھ لے کر آئی ہے اسے جان لے گی۔ {”نَفْسٌ“} کی تنکیر عموم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ” ہر جان“ کیا گیا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
14۔ 1 یہ جواب ہے یعنی مذکورہ امور ظہور پذیر ہوں گے، جن میں سے پہلے چھ کا تعلق دنیا سے ہے اور دوسرے چھ امور کا آخرت سے۔ اس وقت ہر ایک کے سامنے اس کی حقیقت آجائے گی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
14۔ (اس وقت) ہر شخص جان لے گا کہ وہ کیا لے کر آیا [13] ہے
[13] اس علم کے ذریعے دو ہوں گے۔ ایک تو ہر انسان اپنے اعمال کا ٹھیک ٹھیک محاسب ہوتا ہے بشرطیکہ وہ حیلے بہانوں یا اپنے نفس کی طرفداری سے کام نہ لے۔ دوسرے ہر شخص کے اعمال نامے بھی کھول کر انہیں دے دیئے جائیں گے۔ ان دو چیزوں سے ہر انسان اللہ تعالیٰ کی عدالت سے فیصلہ سے پہلے ہی یہ سمجھ لے گا کہ آیا وہ جنت کا مستحق قرار پائے گا یا جہنم کا؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔