(آیت 11) {وَاِذَاالسَّمَآءُكُشِطَتْ: ”كَشَطَ“ (ض) ”اَلشَّيْءَ“} کسی چیز سے وہ چیز اتار دینا جس نے اسے ڈھانپ رکھا ہو۔ {”كَشَطَالْبَعِيْرَ“} اونٹ کی کھال اتارنا۔ عالم بالا پر آسمان کا پردہ جو کھال کی طرح چڑھا ہوا ہے اسے اتار کر تہ کر دیا جائے گا۔ (طبری) جیساکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «يَوْمَنَطْوِيالسَّمَآءَكَطَيِّالسِّجِلِّلِلْكُتُبِ»[الأنبیاء: ۱۰۴]”جس دن ہم آسمان کو یوں لپیٹ دیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دیے جاتے ہیں۔“ کھال اتار دیے جانے کے بعد عالم بالا سب کے سامنے آشکار ہو جائے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
11۔ 1 یعنی اس طرح ادھیڑ دیئے جائیں گے جس طرح چھت ادھڑی جاتی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
11۔ اور آسمان کا پوست [11] اتارا جائے گا
[11] ﴿كَشَطَ﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿كُشِطَتْ﴾﴿كَشَطَ البعير﴾ بمعنی اونٹ کی کھال اتارنا اور ﴿كشاط﴾ بمعنی اتری ہوئی کھال اور ﴿كشاط﴾ بمعنی کھال اتارنے والا قصائی یا قصاب، اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آسمان محض ایک ٹھوس جسم ہی نہیں بلکہ اس کے جسم پر کھال کا پردہ بھی ہے اور جس طرح کھال اتارنے کے بعد جسم کے اندرونی اعضاء نظر آنے لگتے ہیں۔ اسی طرح آسمان کی کھال اتارنے کے بعد عالم بالا کی وہ چیزیں نظر آنے لگیں گی جو آج نظر نہیں آتیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔