(آیت 10){ وَاِذَاالصُّحُفُنُشِرَتْ:} اعمال نامے جو بند تھے، پھیلا کر سامنے کر دیے جائیں گے، تاکہ ہر عمل کرنے والا اپنے عمل خود پڑھ لے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ لوگوں میں ان کے اعمال نامے دائیں یا بائیں ہاتھوں میں پھیلا دیے جائیں گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
10۔ 1 موت کے وقت یہ صحیفے لپیٹ دیئے جاتے ہیں، پھر قیامت والے دن حساب کے لئے کھول دیئے جائیں گے، جنہیں ہر شخص دیکھ لے گا بلکہ ہاتھوں میں پکڑا دیئے جائیں گے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
10۔ اور جب اعمال نامے کھولے [10] جائیں گے
[10]﴿نُشِرَتْ﴾﴿نَشَرَ﴾ کے معنی کسی چیز کو کھولنا، کھول کر پھیلا دینا اور کوئی خبر مشہور کرنا ہے۔ اور اس کی ضد طوٰی بمعنی لپیٹنا ہے۔ کہتے ہیں ﴿نشرت الكتاب ثم طويته﴾ یعنی میں نے کتاب کھولی پھر بند کر دی۔ یعنی اس دن لوگوں کے اعمال نامے کھول کر ان کے ہاتھوں میں تھما دیئے جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔