(آیت 5تا10){ اَمَّامَنِاسْتَغْنٰى …: ”تَصَدّٰى“} اصل میں {”تَتَصَدّٰي“} اور {”تَلَهّٰى“} اصل میں {”تَتَلَهّٰي“} فعل مضارع مخاطب ہیں۔ یعنی جسے اپنی دولت اور سرداری کی وجہ سے آپ کی پروا ہی نہیں آپ اس کے پیچھے پڑ رہے ہیں، حالانکہ اگر وہ کفر کی نجاست سے پاک نہیں ہوتا تو آپ پر کچھ الزام نہیں اور جو کوشش کرکے آیا ہے اور وہ اللہ سے ڈرتا ہے تو آپ اس سے بے توجہی کرتے ہیں، حالانکہ آپ کی توجہ کا اصل حق دار وہ ہے جو طلب رکھتا ہے گو نادار ہے، وہ نہیں جو بے پروا ہے خواہ سرمایہ دار ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
5۔ 1 ایمان سے اور اس علم سے جو تیرے پاس اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ یا دوسرا ترجمہ جو صاحب ثروت و غنا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
5۔ مگر جو شخص بے پروائی کرتا ہے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔