(آیت 33){ فَاِذَاجَآءَتِالصَّآخَّةُ: ”الصَّآخَّةُ“} یعنی کانوں کو بہرا کر دینے والی نفخ صور کی ہولناک آواز جس سے قیامت قائم ہو جائے گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
33۔ 1 یعنی قیامت وہ ایک نہایت سخت چیخ کے ساتھ واقع ہوگی جو کانوں کو بہرہ کر دے گی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
33۔ پھر جب کانوں کو بہرا کر دینے والی [19] آ پہنچے گی
[19]﴿الصَّاخَّةُ﴾﴿صخّ﴾ ایسی آواز کو کہتے ہیں جو کانوں کو بہرہ کر دے۔ ایسی سخت اور کرخت آواز جس سے کانوں کے پردے پھٹ جائیں اور ﴿الصاخه﴾ سے مراد قیامت ہے اور یہ کیفیت پہلے نفخہ صور کے وقت ہو گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ننگے پاؤں، ننگے بدن ، پسینے کا لباس ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ «صَّاخَّةُ» قیامت کا نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نفخہ کی آواز اور ان کا شوروغل کانوں کے پردے پھاڑ دے گا۔ اس دن انسان اپنے ان قریبی رشتہ داروں کو دیکھے گا لیکن بھاگتا پھرے گا کوئی کسی کے کام نہ آئے گا، میاں بیوی کو دیکھ کر کہے گا کہ بتا تیرے ساتھ میں نے دنیا میں کیسا کچھ سلوک کیا وہ کہے گی کہ بے شک آپ نے میرے ساتھ بہت ہی اچھا سلوک کیا بہت پیار محبت سے رکھا یہ کہے گا کہ آج مجھے ضرورت ہے صرف ایک نیکی دے دو تاکہ اس آفت سے چھوٹ جاؤں، تو وہ جواب دے گی کہ سوال تھوڑی سی چیز کا ہی ہے مگر کیا کروں یہی ضرورت مجھے درپیش ہے اور اسی کا خوف مجھے لگ رہا ہے میں تو نیکی نہیں دے سکتی، بیٹا باپ سے ملے گا یہی کہے گا اور یہی جواب پائے گا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔