(آیت 31) {وَفَاكِهَةًوَّاَبًّا:”اَبًّا“} زمین سے اگنے والی وہ نباتات جسے جانور کھاتے ہیں، لوگ نہیں کھاتے۔ (طبری عن ابن عباس وغیرہ) یہ{”أَبَّ“} (ن) (قصد کرنا) سے مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، یعنی ”قصد کیا ہوا“ کیونکہ جانور اس کی طرف لپکتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
31۔ اور پھل اور چارہ (بھی) اگائے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔