ترجمہ و تفسیر — سورۃ عبس (80) — آیت 3

وَ مَا یُدۡرِیۡکَ لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰۤی ۙ﴿۳﴾
اور تجھے کیا چیز معلوم کرواتی ہے شاید وہ پاکیزگی حاصل کر لے۔ En
اور تم کو کیا خبر شاید وہ پاکیزگی حاصل کرتا
En
تجھے کیا خبر شاید وه سنور جاتا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 4،3) {وَ مَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّهٗ يَزَّكّٰۤى …:} آپ نے جو یہ سمجھا کہ یہ نابینا تو مسلمان ہی ہے، کسی اور وقت مسئلہ پوچھ لے گا، مجھے کافر کو مسلمان بنانے پر زیادہ توجہ دینی چاہیے تو یہ بات اگرچہ ایک حد تک درست ہے، مگر آپ کو اس بات کا خیال بھی ضروری تھا کہ وہ کافر تو آپ کی ہدایت سے فائدہ اٹھانے پر تیار ہی نہیں۔ خوف ناک بیماری میں مبتلا شخص کا علاج مقدم ہونا چاہیے مگر وہ دوا لینے پر آمادہ ہی نہ ہو تو اس کی امید میں آپ اپنے ساتھیوں سے کیوں بے توجہی کریں، جو دوائے دل کے طالب ہیں کہ آپ توجہ فرمائیں تو وہ جہل اور گناہ سے خوب پاک صاف ہو جائیں۔ { يَزَّكّٰۤى } میں مبالغہ ہے، یاآپ کی نصیحت سے انھیں نفع حاصل ہو جائے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

3۔ 1 یعنی وہ نابینا تجھ سے دینی رہنمائی حاصل کر کے عمل صالح کرتا، جس سے اس کا اخلاق و کردار سنور جاتا، اس کے باطن کی اصلاح ہوجاتی اور تیری نصیحت سننے سے اس کو فائدہ ہوتا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ اور آپ کو کیا معلوم شاید وہ سنور جاتا

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔