(آیت 28،27) {فَاَنْۢبَتْنَافِيْهَاحَبًّا …: ”قَضْبًا“”قَضَبَيَقْضِبُ“} (ض) (کاٹنا) کا مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، یعنی زمین کی وہ پیداوار جو سال میں کئی مرتبہ کاٹی جاتی ہے، مراد ترکاری ہے۔ وہ چارے بھی اس میں آجاتے ہیں جو بار بار کاٹے جاتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
27۔ تو اس میں سے ہم نے اناج (بھی) اگایا
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔