(آیت 25،24){ فَلْيَنْظُرِالْاِنْسَانُ …:} پہلے آیت (۱۷) سے (۲۲) تک ان نعمتوں کا ذکر فرمایا جو انسان کی پیدائش اور اس کی ذات سے تعلق رکھتی تھیں، اب ان نعمتوں کا ذکر ہے جو اس کی ذات سے تو تعلق نہیں رکھتیں مگر ان کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔فرمایا اپنی قریب ترین چیز کھانے ہی کو دیکھ لو کہ اس کی تیاری کے لیے ہم نے کائنات کی کتنی قوتوں کو مصروف کر رکھا ہے۔ {”اَنَّاصَبَبْنَاالْمَآءَصَبًّا“} میں مصدر کے ساتھ فعل کی تاکید فرمائی۔ ترجمہ میں اس تاکید کو ”خوب برسانا “ کے الفاظ سے ادا کیا گیا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
24۔ 1 کہ اسے اللہ نے کس طرح پیدا کیا، جو اس کی زندگی کا سبب ہے اور کس طرح اس کے لئے اسباب معاش مہیا کئے تاکہ وہ ان کے ذریعے سعادت آخروی حاصل کرسکے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
24۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔