ترجمہ و تفسیر — سورۃ عبس (80) — آیت 23

کَلَّا لَمَّا یَقۡضِ مَاۤ اَمَرَہٗ ﴿ؕ۲۳﴾
ہرگز نہیں، ابھی تک اس نے وہ کام پورا نہیں کیا جس کا اس نے اسے حکم دیا۔ En
کچھ شک نہیں کہ خدا نے اسے جو حکم دیا اس نے اس پر عمل نہ کیا
En
ہرگز نہیں۔ اس نے اب تک اللہ کے حکم کی بجا آوری نہیں کی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 23) {كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗ: كَلَّا } ہر گز نہیں۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ کافر انسان جو سمجھتا ہے کہ اس کے مال و جان پر اللہ کا جو حق تھا وہ اس نے ادا کر دیا ہے، یہ ہر گز درست نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی انسان نے بھی ابھی تک وہ فرائض ہی پورے ادا نہیں کیے جن کا اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا تھا، حق کا ادا کرنا تو بہت دور ہے۔ { لَمْ يَقْضِ } پورا نہیں کیا۔{ لَمَّا يَقْضِ } ابھی تک پورا نہیں کیا۔ مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: { لَا يَقْضِيْ أَحَدٌ مَا أُمِرَ بِهٖ } [بخاري، التفسیر، باب سورۃ عبس، بعد ح: ۴۹۳۶] کوئی بھی شخص وہ کام پورا نہیں کرتا جس کا اسے حکم دیا گیا ہے (کمی رہ ہی جاتی ہے)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

23۔ 1 یعنی معاملہ اس طرح نہیں ہے، جس طرح یہ کافر کہتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

23۔ ہرگز نہیں، جس بات کا اسے حکم دیا گیا تھا وہ فرض اس نے قطعاً پورا [16] نہیں کیا
[16] اسے حکم تو یہ دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کا فرمانبردار بن کر رہے۔ یہ حکم اس کی فطرت میں بھی ودیعت کیا گیا تھا پھر اسے پیغمبروں اور کتابوں کے ذریعہ بھی اللہ تعالیٰ نے ایسا حکم دیا تھا۔ اگر وہ اپنے مندرجہ بالا حالات پر غور کرتا تو اس کے لیے اللہ کا فرمانبردار بن کر رہنے کے سوا کوئی چارہ کار نہ تھا۔ مگر اس نے ان تقاضوں کو مطلقاً پورا نہیں کیا۔ بعض مفسرین نے اس آیت کو ایک الگ مستقل آیت سمجھنے کے بجائے سابقہ آیت سے مربوط کیا ہے۔ اور اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اللہ جب چاہے گا زندہ کر کے اٹھائے گا لیکن ابھی ایسا نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ابھی تک اس دنیا کی آبادی اور کائنات کی تکمیل سے متعلق اس کا جو طے شدہ حکم ہے وہ ابھی تک اس نے پورا نہیں کیا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔