ترجمہ و تفسیر — سورۃ عبس (80) — آیت 21

ثُمَّ اَمَاتَہٗ فَاَقۡبَرَہٗ ﴿ۙ۲۱﴾
پھر اسے موت دی، پھر اسے قبر میں رکھوایا۔ En
پھر اس کو موت دی پھر قبر میں دفن کرایا
En
پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں دفن کیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 21) { ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗ:} پھر اسے موت دی جو آخرت کی مصلحت کے تحت ضروری تھی، پھر اسے قبر میں رکھوایا، اگر وہ یہ احسان نہ کرتا تو یہ جانوروں کی طرح زمین پر پڑا رہتا، متعفن ہو کر اللہ کی مخلوق کے لیے باعث آزار بنتا۔اس کی بے حرمتی ہوتی، بے پردہ ہوتا اور اسے درندے نوچتے۔ {قَبَرَهٗ} قبر میں رکھا اور {أَقْبَرَهٗ} قبر میں رکھوایا۔کوئی جل جائے، غرق ہو جائے یا اسے درندے کھا جائیں تو اس کے اجزا جہاں بھی ہیں وہ اس کے لیے قبر ہے۔ اگر کسی کو دفن نہ کیا جا سکے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے قبر نہیں ملی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

21۔ پھر اسے موت دی پھر اسے [14] قبر میں رکھا
[14] انسان کو موت دینا اور قبر مہیا کرنا بھی اللہ کا احسان ہے :۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا انسان کو موت دینا بھی اس کا احسان ہے اور اسے قبر مہیا کرنا بھی۔ موت کے احسان ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب ایک بیمار بستر مرگ پر پڑا ایڑیاں رگڑ رہا ہوتا ہے۔ تکلیف سے سخت بے تاب ہوتا ہے مگر اسے موت نہیں آتی۔ گھر والے اس کی مرض کی طوالت کی وجہ سے الگ پریشان ہوتے ہیں۔ بیماری پر بے بہا مصارف اٹھتے ہیں اور وہ کوئی دوسرا کام کرنے کے قابل بھی نہیں رہتے۔ اس وقت دل سے بھی دعا مانگتے ہیں کہ مرنے والے کو موت آجائے تاکہ اسے بھی تکلیف سے نجات حاصل ہو اور اس کے گھر والے بھی پریشانیوں سے نجات پا جائیں۔ نیز اگر انسان کو موت نہ آتی تو یہ زمین بنی نوع انسان کے لیے تنگ ہو جاتی۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا انسان کو قبر مہیا کرنا یا روئے زمین سے اس کے وجود کو غائب کر دینا بھی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ ورنہ جہاں یہ بات میت کے لواحقین کے لیے ناقابل فراموش صدمہ ہوتا وہ مرنے کے بعد میت کے جسم میں ہونے والے تغیرات کو دیکھنا برداشت نہ کر سکتے۔ زندوں کے سامنے لاش کی بے حرمتی ان کے لیے مزید صدمہ جانکاہ بن جاتا۔ واضح رہے قبر سے مراد صرف زمینی گڑھا ہی نہیں بلکہ سمندر کی گہرائی، آگ کا الاؤ، درندوں کا پیٹ سب قبر کے حکم میں داخل ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔