ترجمہ و تفسیر — سورۃ عبس (80) — آیت 20

ثُمَّ السَّبِیۡلَ یَسَّرَہٗ ﴿ۙ۲۰﴾
پھر اس کے لیے راستہ آسان کر دیا۔ En
پھر اس کے لیے رستہ آسان کر دیا
En
پھر اس کے لئے راستہ آسان کیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 20){ ثُمَّ السَّبِيْلَ يَسَّرَهٗ:} پھر اس کے لیے راستہ آسان کر دیا۔اس کے تین معانی ہو سکتے ہیں، پہلا یہ کہ ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کر دیا، ورنہ ان تنگ ہڈیوں کے حصار سے نکل ہی نہ سکتا اور وہیں خود بھی مر جاتا اور ماں کی موت کا بھی باعث بنتا، دوسرا یہ کہ خیر و شر میں سے جس راستے پر چلنا چاہے وہی اس کے لیے آسان کر دیا اور تیسرا یہ کہ صحیح راستے کی پہچان اس کے لیے آسان کر دی، جس سے وہ اپنے پیدا کرنے والے پر ایمان لا سکتا ہے۔ تینوں معانی درست ہیں، مگر { مِنْ نُّطْفَةٍ خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗ } کی مناسبت سے پہلا معنی زیادہ صحیح ہے۔ (التسہیل)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

20۔ 1 یعنی خیر اور شر کے راستے اس کے لئے واضح کردیئے، بعض کہتے ہیں اس سے مراد ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ ہے۔ لیکن پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

20۔ پھر اس کے لئے راستہ آسان [13] کر دیا
[13] اس آیت کے کئی مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ ماں کے پیٹ سے باہر آنا اس کے لیے آسان بنا دیا۔ جب رحم مادر میں بچے کی نشو و نما پوری ہو چکتی ہے تو ماں اس کو اپنے پیٹ سے باہر نکالنے کے لیے بے قرار ہو جاتی ہے اور جب تک اسے جن نہ لے اسے قرار نہیں آتا۔ راستہ تنگ ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ وضع حمل کے وقت اس راستہ میں اتنی لچک پیدا کر دیتا ہے کہ ماں کے لئے اس کا جننا آسان ہو جاتا ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو تمام ایسی قوتیں عطا کر دیں اور استعداد مہیا کر دی کہ وہ دنیا میں موجود وسائل و اسباب سے کام لے کر اپنی زندگی گزار سکے اور تیسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اسے خیر و شر کے دونوں راستے سمجھا دیے۔ اس کی فطرت میں یہ تمیز رکھ دی۔ پھر انبیاء و رسل اور کتابوں کے ذریعے بھی سب کچھ سمجھا دیا، اور اسے اختیار دے دیا کہ جونسی راہ وہ چاہے اختیار کر لے۔ پھر جو راہ بھی اختیار کرے اللہ تعالیٰ اسی راستے کو اس کے لئے آسان بنا دیتا ہے اور اس کی توفیق عطا فرماتا جاتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔