اس آیت کی تفسیر آیت 18 میں تا آیت 20 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
19۔ 1 یعنی جس کی پیدائش ایسے حقیر قطرہ آب سے ہوئی ہے، کیا اسے تکبر زیب دیتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
19۔ نطفہ سے، اللہ نے اسے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقرر [12] کی
[12] وہ اگر یہ سوچتا کہ وہ کس چیز سے پیدا ہوا۔ کس جگہ وہ پرورش پا کر نطفہ سے بچہ بنا پھر کس بے بسی کی حالت میں ماں کے پیٹ سے باہر نکلا تو اسے ہرگز یہ جرأت نہ ہوتی کہ وہ اپنے خالق کے منہ کو آئے اور اس کا کلام سن کر اس کا انکار کر دے؟ پھر جب وہ ماں کے پیٹ میں نشو و نما پا رہا تھا تو اس کی تقدیر طے کر دی گئی۔ اس کی عمر کتنی ہو گی؟ وہ کہاں مرے گا اور کہاں دفن ہو گا؟ وہ تنگدست رہے گا یا خوشحال ہو گا۔ اسے ایمان میسر آئے گا یا نہیں؟ وہ کفر کی حالت میں مرے گا یا ایمان کی حالت میں۔ یہ سب تفصیلات تو رحم مادر میں ہی طے کر دی تھیں اور اس مقررہ تقدیر کے آگے وہ بالکل بے بس ہے لیکن ان باتوں کے باوجود وہ اللہ کے مقابلہ میں اکڑتا اور کفر کرتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔