اس آیت کی تفسیر آیت 11 میں تا آیت 13 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
12۔ 1 یعنی جو اس میں رغبت کرے، وہ اس سے نصیحت حاصل کرے، اور اسے یاد کرے اور اس پر عمل کرے اور جو اس سے منہ پھیرے، جیسے اشراف قریش نے کیا، تو ان کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
12۔ جو چاہے اسے یاد رکھے [7]
[7]﴿ذَكَرَه﴾ کا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے اور یہ بھی کہ جو شخص چاہے قرآن کی نصیحت کی باتوں کا بار بار تذکرہ کرتا رہے اور یہ بھی کہ قرآن کو زبانی یاد کر لے۔ غرض قرآن کو پڑھنا، اس کی نصیحت پر عمل کرنا اور اسے زبانی یاد کرنا سب بڑے اجر و ثواب کے کام ہیں۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور وہ اس کا حافظ ہے وہ (قیامت کے دن) لکھنے والے معزز فرشتوں کے ساتھ ہو گا۔ اور جو قرآن کو اٹک اٹک کر پڑھتا ہے اور پڑھنا اسے مشکل ہوتا ہے اس کے لیے دہرا اجر ہے۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔