ترجمہ و تفسیر — سورۃ عبس (80) — آیت 11

کَلَّاۤ اِنَّہَا تَذۡکِرَۃٌ ﴿ۚ۱۱﴾
ایسا ہرگز نہیں چاہیے، یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے۔ En
دیکھو یہ (قرآن) نصیحت ہے
En
یہ ٹھیک نہیں قرآن تو نصیحت (کی چیز) ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 12،11){ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌ …: كَلَّاۤ } ہر گز نہیں، یعنی جو ہوا سو ہوا،آئندہ ہر گز اس طرح نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ قرآن تو ایک نصیحت ہے جو ہر خاص و عام کے لیے ہے، اس میں کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح نہیں دی جانی چاہیے، پھر جو چاہے نصیحت قبول کر لے، اس کا اپنا فائدہ ہے اور کوئی متکبر اگر نصیحت سن لینے کے باوجود اسے قبول نہیں کرتا تو آپ کو بھی قبول کرنے والوں کو چھوڑ کر اس کے پیچھے پڑنے کی ضرورت نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

11۔ 1 یعنی غریب سے یہ روگردانی اور اصحاب حیثیت کی طرف خصوصی توجہ، یہ ٹھیک نہیں۔ مطلب ہے کہ، آئندہ ایسا دوبارہ نہ ہو۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

11۔ ایسا ہرگز نہیں چاہیے [6]۔ یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے
[6] یعنی قرآن کی عزت و وقعت کا انحصار ایسے مغرور اور سر پھروں کے ماننے پر نہیں ہے۔ اگر یہ لوگ قرآن کی نصیحت پر عمل نہیں کرتے تو اپنا ہی نقصان کریں گے۔ قرآن کو ان کی کیا پروا ہو سکتی ہے اور نہ ہی آپ کو ایسے لوگوں کے پیچھے پڑنے کی ضرورت ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔