ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنفال (8) — آیت 74

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ ہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ الَّذِیۡنَ اٰوَوۡا وَّ نَصَرُوۡۤا اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا ؕ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ رِزۡقٌ کَرِیۡمٌ ﴿۷۴﴾
اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنھوں نے جگہ دی اور مدد کی وہی سچے مومن ہیں، انھی کے لیے بڑی بخشش اور باعزت رزق ہے۔ En
اور جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں لڑائیاں کرتے رہے اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی۔ یہی لوگ سچے مسلمان ہیں۔ ان کے لیے (خدا کے ہاں) بخشش اور عزت کی روزی ہے
En
جو لوگ ایمان ﻻئے اور ہجرت کی اور اللہ کی راه میں جہاد کیا اور جنہوں نے پناه دی اور مدد پہنچائی، یہی لوگ سچے مومن ہیں، ان کے لئے بخشش ہے اور عزت کی روزی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 74) {وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا …:} اس آیت میں مسلمانوں کے پہلے دو گروہوں، یعنی مہاجرین اولین اور انصار کی تعریف فرمائی ہے، کیونکہ پہلے ان کا ذکر باہمی دوستی اور تعاون کی تاکید کے لیے تھا۔ اس آیت میں ان کی تعریف تین طرح سے کی ہے، پہلا تو یہ کہ یہ لوگ ایمان، ہجرت، جہاد اور اہل ایمان کو جگہ دینے اور نصرت کی وجہ سے پکے مومن ہیں، بخلاف ان کے جو ایمان تو لائے مگر ہجرت نہیں کی، جس کی وجہ ان کے ایمان کی خامی ہے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۹۷) حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان مہاجرین و انصار کے لیے «اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا» بہت بڑی سند ہے۔ دوسرا ان کے لیے عظیم مغفرت اور بخشش ہے۔ { مَغْفِرَةٌ } میں تنوین تعظیم کے لیے ہے۔ تیسرا یہ کہ ان کے لیے رزق کریم ہے، اس میں جنت کی بے شمار نعمتوں کے ساتھ دنیا میں باعزت روزی کا وعدہ ہے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دنیا میں عزت کی روزی سے مراد مال غنیمت اور فے ہے، جو خالص ان لوگوں کا حق ہے جو سردار کے ساتھ شریک جنگ ہوں۔ (موضح)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

74۔ 1 یہ مہاجرین و انصار کے انہی دو گروہوں کا تذکرہ ہے، جو پہلے بھی گزرا ہے۔ یہاں دوبارہ ان کا ذکر ان کی فضیلت کے سلسلے میں ہے۔ جب کہ پہلے ان کا ذکر آپس میں ایک دوسرے کی حمایت و نصرت کی وجہ بیان کرنے کے لئے تھا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

74۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا، اور جن لوگوں نے انہیں پناہ دی اور ان کی مدد کی، یہی لوگ حقیقی [76] مومن ہیں۔ ان کے لئے بخشش اور عزت کا رزق ہے
[76] مہاجرین و انصار کی فضیلت:۔
اس لیے جس آڑے وقت میں اسلام کی سربلندی کے لیے ان مہاجرین و انصار نے اپنی جان اور مال سے قربانیاں پیش کی ہیں۔ ان کا اعزاز اور ان کے درجات یقیناً ان مسلمانوں سے بلند ہوں گے اور ہونے چاہئیں جو اس وقت ایمان لائے یا ہجرت کی یا جہاد کیا۔ جبکہ اسلام پوری طرح جڑ پکڑ چکا ہے اور اس وقت اسلام لانے میں کسی خوف و خطر کی فکر تو درکنار فائدہ ہی فائدہ نظر آرہا تھا۔ ان دونوں قسم کے مسلمانوں میں حقیقی اور راست باز مسلمان تو وہی قرار دیئے جا سکتے ہیں جنہوں نے کئی قسم کے خطرات مول لے کر اپنے گھر اور وطن کو خیر باد کہا یا پھر وہ لوگ جنہوں نے ان خستہ حال مسلمانوں کو وہاں پہنچتے ہی اپنے گلے سے لگا لیا اور اس طرح مہاجرین و انصار دونوں نے اپنے اسلام کے دعویٰ پر اپنے عمل سے مہر تصدیق ثبت کر دی۔ یقیناً یہی لوگ زیادہ اجر و ثواب کے مستحق ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مہاجر اور انصار میں وحدت ٭٭
مومنوں کا دنیوی حکم ذکر فرما کر اب آخرت کا حال بیان فرما رہا ہے ان کے ایمان کی سچائی ظاہر کر رہا ہے جیسے کہ سورت کے شروع میں بیان ہوا ہے انہیں بخشش ملے گی ان کے گناہ معاف ہوں گے انہیں عزت کی پاک روزی ملے گی جو برکت والی ہمیشگی والی طیب و طاہر ہو گی قسم قسم کی لذیذ عمدہ اور نہ ختم ہونے والی ہو گی۔ ان کی اتباع کرنے والے ایمان و عمل صالح میں ان کا ساتھ دینے والے آخرت میں بھی درجوں میں ان کے ساتھ ہی ہوں گے۔جیسا کہ «وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ ۙ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ وَاَعَدَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [9- التوبہ: 100]‏‏‏‏ اور «وَالَّذِيْنَ جَاۗءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ» ۱؎ [59- الحشر: 10]‏‏‏‏ میں ہے۔
متفق علیہ بلکہ متواتر حدیث میں ہے کہ { انسان اس کے ساتھ ہو گا جس سے محبت رکھتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6167]‏‏‏‏
دوسری حدیث میں ہے { جو کسی قوم سے محبت رکھے وہ ان میں سے ہی ہے۔ ایک روایت میں ہے اس کا حشر بھی انہیں کے ساتھ ہو گا۔} ۱؎ [طبرانی صغیر:874]‏‏‏‏
مسند احمد کی حدیث گذر چکی ہے کہ { مہاجر و انصار آپس میں ایک دوسری کے ولی ہیں فتح مکہ کے بعد مسلمان قریشی اور ثقیف کے آزاد شدہ آپس میں ایک ہیں، قیامت تک یہ سب آپس میں ولی ہیں۔} ۱؎ [مسند احمد:363/4:صحیح]‏‏‏‏
پھر اولو الارحام کا بیان ہوا یہاں ان سے مراد وہی قرابت دار نہیں جو علماء فرائض کے نزدیک اس نام سے یاد کئے جاتے ہیں یعنی جن کا کوئی حصہ مقرر نہ ہو اور جو عصبہ بھی ہوں جیسے خالہ، ماموں، پھوپھی، نواسے، نواسیاں، بھانجے، بھانجیاں وغیرہ۔ بعض کا یہی خیال ہے آیت سے حجت پکڑتے ہیں اور اسے اس بارے میں صراحت والی بتاتے ہیں۔
یہ نہیں بلکہ حق یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے تمام قرابت داروں کو شامل ہے جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ،مجاہد،عکرمہ،حسن،قتادہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کہتے ہیں کہ یہ ناسخ ہے آپس کی قسموں پر وارث بننے کی اور بھائی چارے پر وارث بننے کی جو پہلے دستور تھا پس یہ علماء فرائض کے ذوی الارحام کو شامل ہو گی خاص نام کے ساتھ۔ اور جو انہیں وارث نہیں بناتے ان کے پاس کئی دلیلیں ہیں سب سے قوی یہ حدیث ہے کہ { اللہ نے ہر حقدار کو اس کا حق دلوادیا ہے پس کسی وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں۔} ۱؎ [سنن ابوداود:2870،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ بھی حقدار ہوتے تو ان کے بھی حصے مقرر ہو جاتے جب یہ نہیں تو وہ بھی نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۂ انفال کی تفسیر ختم ہوئی اللہ تعالیٰ پر ہمیں بھروسہ ہے وہی ہمیں کافی ہے اور وہی کارساز ہے۔