ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنفال (8) — آیت 52

کَدَاۡبِ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ۙ وَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَاَخَذَہُمُ اللّٰہُ بِذُنُوۡبِہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۵۲﴾
(ان کا حال) فرعون کی آل اور ان لوگوں کے حال کی طرح (ہوا) جو ان سے پہلے تھے، انھوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا تو اللہ نے انھیں ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ لیا۔ بے شک اللہ بہت قوت والا، بہت سخت عذاب والا ہے۔ En
جیسا حال فرعوینوں اور ان سے پہلے لوگوں کا (ہوا تھا ویسا ہی ان کا ہوا کہ) انہوں نے خدا کی آیتوں سے کفر کیا تو خدا نےان کے گناہوں کی سزا میں ان کو پکڑ لیا۔ بےشک خدا زبردست اور سخت عذاب دینے والا ہے
En
مثل فرعونیوں کے حال کے اور ان سے اگلوں کے، کہ انہوں نے اللہ کی آیتوں سے کفر کیا پس اللہ نے ان کے گناہوں کے باعﺚ انہیں پکڑ لیا۔ اللہ تعالیٰ یقیناً قوت واﻻ اور سخت عذاب واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 52) {كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ وَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ …:} یہاں مبتدا محذوف ہے { دَأْبُهُمْ كَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ} یعنی ان کا حال اللہ کی آیات کو جھٹلانے اور اس کے نتیجے میں عذاب میں مبتلا ہونے میں آل فرعون اور ان سے پہلے کفار کی طرح ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

52۔ 1 دَأبً کے معنی ہیں عادت۔ کاف تشبیہ کے لئے ہے۔ یعنی ان مشرکین کی عادت یا حال، اللہ کے پیغمبروں کے جھٹلانے میں، اسی طرح ہے۔ جس طرح فرعون اور اس سے قبل دیگر منکرین کی عادت یا حال تھا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

52۔ ان کافروں کا معاملہ بھی فرعونیوں جیسا ہے اور ان لوگوں جیسا جو ان [56] سے پہلے تھے۔ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا تو اللہ نے ان کے گناہوں کے بدلے انہیں پکڑ لیا۔ اللہ تعالیٰ یقیناً بڑا طاقتور اور سخت سزا دینے والا ہے
[56] یعنی آل فرعون اور قوم عاد، ثمود اور نوح وغیرہ میں اور ان مشرکین مکہ میں کوئی فرق نہیں۔ انہوں نے بھی اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا اور نافرمانی اور سرکشی پر اتر آئے تھے اور یہ لوگ بھی وہی کچھ کر رہے ہیں۔ لہٰذا جیسے انہیں اپنے گناہوں کی پاداش میں عذاب سے دو چار ہونا پڑا تھا۔ اسی طرح انہیں بھی عذاب بدر سے دو چار ہونا پڑا اور آگے ہونا پڑے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسی سزا دینے کی پوری طاقت رکھتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

کفار اللہ کے ازلی دشمن ہیں ٭٭
’ ان کافروں نے بھی تیرے ساتھ وہی کیا جو ان سے پہلے کافروں نے اپنے نبیوں کے ساتھ کیا تھا پس ہم نے بھی ان کے ساتھ وہی کیا جو ہم نے ان سے گذشتہ لوگوں کے ساتھ کیا تھا جو ان ہی جیسے تھے۔‘
مثلاً فرعونی اور ان سے پہلے کے لوگ جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو نہ مانا جس کے باعث اللہ کی پکڑ ان پر آئی۔ تمام قوتیں اللہ ہی کی ہیں اور اس کے عذاب بھی بڑے بھاری ہیں کوئی نہیں جو اس پر غالب آ سکے کوئی نہیں جو اس سے بھاگ سکے۔