وَ اِذۡ یَمۡکُرُ بِکَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِیُثۡبِتُوۡکَ اَوۡ یَقۡتُلُوۡکَ اَوۡ یُخۡرِجُوۡکَ ؕ وَ یَمۡکُرُوۡنَ وَ یَمۡکُرُ اللّٰہُ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ ﴿۳۰﴾
اور جب وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، تیرے خلاف خفیہ تدبیریں کر رہے تھے، تا کہ تجھے قید کر دیں، یا تجھے قتل کر دیں، یا تجھے نکال دیں اور وہ خفیہ تدبیرکر رہے تھے اور اللہ بھی خفیہ تدبیر کر رہا تھا اور اللہ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔
En
اور (اے محمدﷺ اس وقت کو یاد کرو) جب کافر لوگ تمہارے بارے میں چال چل رہے تھے کہ تم کو قید کر دیں یا جان سے مار ڈالیں یا (وطن سے) نکال دیں تو (ادھر تو) وہ چال چل رہے تھے اور (اُدھر) خدا چال چل رہا تھا۔ اور خدا سب سے بہتر چال چلنے والا ہے
En
اور اس واقعہ کا بھی ذکر کیجئے! جب کہ کافر لوگ آپ کی نسبت تدبیر سوچ رہے تھے کہ آپ کو قید کر لیں، یا آپ کو قتل کر ڈالیں یا آپ کو خارج وطن کر دیں اور وه تو اپنی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیر کر رہا تھا اور سب سے زیاده مستحکم تدبیر واﻻ اللہ ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 30) {وَ اِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا …:} جب تقریباً تمام صحابہ ہجرت کرکے مدینہ چلے گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، علی رضی اللہ عنھما اور اکّا دکّا مسلمان مکہ میں رہ گئے تو کفار کو فکر لاحق ہوئی کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی ہمارے ہاتھ سے نکل گئے تو وہ ہمارے لیے ایسا خطرہ ثابت ہوں گے جو ہمارے قابو سے باہر ہو گا۔ چنانچہ ان کی دار الندوہ میں مجلس ہوئی، جس میں تجاویز و آراء طلب کی گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا خلاصہ بیان فرمایا ہے، ایک رائے یہ تھی کہ آپ کو قید کر دیں اور موت تک وہاں سے نہ نکلنے دیں، اس پر یہ امکان سامنے آیا کہ ان کے ساتھی کار روائی کرکے انھیں چھڑا لیں گے۔ ایک تجویز یہ آئی کہ انھیں قتل کر دیا جائے، اس پر آپ کے خاندان بنو عبد مناف کے ساتھ لڑائی کا خطرہ سامنے آیا اور ایک مشورہ یہ آیا کہ ہم خود ہی انھیں مکہ سے نکال دیں، جہاں چاہیں جائیں، ہماری تو جان چھوٹے گی، اس پر یہ خطرہ سامنے آیا کہ وہ اپنے صدق و امانت، خوش خلقی اور خوش کلامی سے لوگوں کو اکٹھا کرکے تم پر حملہ آور ہوں گے۔ آخر فیصلہ یہ ٹھہرا کہ ہر قبیلے سے ایک نوجوان لیا جائے، وہ سب رات کو آپ کے گھر کا محاصرہ کر لیں، آپ جوں ہی باہر نکلیں وہ سب مل کر حملہ کرکے آپ کا کام تمام کر دیں۔ بنو عبد مناف کس کس سے لڑیں گے، آخر دیت پر راضی ہو جائیں گے۔ جبریل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ کو ان کی سازش کی اطلاع دے دی اور یہ بھی بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہجرت کی اجازت دے دی ہے۔ آپ اس رات اپنے بستر پر نہیں سوئے، بلکہ علی رضی اللہ عنہ کو اپنے بستر پر سلا دیا۔ کافر ساری رات انتظار میں رہے مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی خفیہ تدبیر سے کفار کی سازش کو ناکام کرکے آپ کو بحفاظت نکال لیا، اگلے دن آپ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی معیت میں ہجرت فرمائی۔ سیرت کی تمام کتابوں میں یہ قصہ مذکور ہے جس کا یہ خلاصہ قرآن مجید کے مطابق ہے۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں: ”ہجرت کی رات علی رضی اللہ عنہ نے اپنی جان کا سودا کیا، وہ یہ کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر اوڑھی اور آپ کی جگہ سو گئے۔“ [أحمد: 330/1، ۳۳۱، ح: ۳۰۶۲۔ مستدرک حاکم: 4/3، ح ۴۲۶۴۔ وصححہ الحاکم و وافقہ الذھبی] ہجرت کے واقعہ کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ (۴۰)۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں: ”ہجرت کی رات علی رضی اللہ عنہ نے اپنی جان کا سودا کیا، وہ یہ کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر اوڑھی اور آپ کی جگہ سو گئے۔“ [أحمد: 330/1، ۳۳۱، ح: ۳۰۶۲۔ مستدرک حاکم: 4/3، ح ۴۲۶۴۔ وصححہ الحاکم و وافقہ الذھبی] ہجرت کے واقعہ کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ (۴۰)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
30۔ 1 یہ اس سازش کا تذکرہ جو روسائے مکہ نے ایک رات دار الندہ میں تیار کی تھی اور بالاخر یہ طے پایا تھا کہ مختلف قبیلوں کے نوجوانوں کو آپ کے قتل پر مامور کیا جائے تاکہ کسی ایک کو قتل کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے بلکہ دیت دیکر جان چھوٹ جائے۔ 30۔ 2 چناچہ اس سازش کے تحت ایک رات یہ نوجوان آپ کے گھر کے باہر اس انتظار میں کھڑے رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلیں تو آپ کا کام تمام کردیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سازش سے آگاہ فرمادیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکلنے کا پتہ ہی نہیں لگا، حتیٰ کہ آپ غار ثور میں پہنچ گئے۔ یہ کافروں کے مقابلے میں اللہ کی تدبیر تھی۔ جس سے بہتر کوئی تدبیر نہیں کرسکتا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
30۔ اور (اے نبی وہ وقت یاد کرو) جب کافر آپ کے متعلق خفیہ تدبیریں سوچ رہے تھے کہ آپ کو قید کر دیں، یا مار ڈالیں یا جلا وطن کر دیں۔ وہ بھی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ بھی [31] تدبیر کر رہا تھا اور اللہ ہی سب سے اچھی تدبیر کرنے والا ہے
[31] آپﷺ کو قید، جلاوطن یا قتل کرنے کا مشورہ:۔
جب کچھ مسلمان ہجرت کر کے مدینہ چلے آئے تو کفار مکہ کو خطرہ لاحق ہوا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہاں مکہ سے ہمارے ہاتھوں سے نکل گیا تو پھر یہ خطرہ ہمارے قابو سے نکل جائے گا۔ لہٰذا جیسے بھی ممکن ہو اس کا علاج فوری طور پر سوچنا چاہیے۔ اس غرض کے لیے انہوں نے دار الندوہ میں میٹنگ کی اور شرکائے مجلس سے تجاویز و آراء طلب کی گئیں۔ کسی نے کہا کہ اسے پابہ زنجیر کر کے قید کر دیا جائے۔ شیطان جو خود اس میٹنگ میں انسانی صورت میں حاضر ہوا تھا کہنے لگا: یہ تجویز درست نہیں۔ کیونکہ اس کے پیروکار اس کے اس قدر جانثار ہیں کہ وہ اپنی جانیں خطرہ میں ڈال کر بھی اس کو کسی نہ کسی وقت چھڑا لے جانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ دوسرے نے کہا اسے یہاں سے جلاوطن کر دیا جائے۔ اس سے یہ فائدہ ہو گا کہ کم از کم ہم تو ہر روز کی بک بک سے نجات پا جائیں گے۔ شیطان نے کہا یہ تجویز بھی درست نہیں۔ کیونکہ اس شخص کے کلام اور بیان میں اتنا جادو ہے کہ وہ جہاں جائے گا وہیں اس کے جانثار پیدا ہو جائیں گے۔ پھر وہ انہیں لے کر کسی وقت بھی آپ پر حملہ آور ہو سکتا ہے۔ بعد میں ابو جہل بولا کہ ہم سب قبائل میں سے ایک ایک نوجوان لے لیں اور یہ سب مل کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر یکبارگی حملہ کر کے اسے جان سے ہی ختم کر دیں۔ اب یہ تو ظاہر ہے کہ بنو عبد مناف سب قبیلوں سے لڑائی کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ لامحالہ خون بہا پر فیصلہ ہو گا جو سب قبائل مل کر حصہ رسدی ادا کر دیں گے۔ یہ رائے سن کر شیطان کی آنکھوں میں چمک پیدا ہو گئی اور اس نے اس رائے کو بہت پسند کیا۔ پھر اس کام کے لیے وقت بھی اسی مجلس میں مقرر ہو گیا کہ فلاں رات یہ سب نوجوان مل کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کر لیں اور جب باہر نکلے تو سب یکبارگی اس پر حملہ کر کے اس کا کام تمام کر دیں۔
آپﷺ کی ہجرت کا فوری سبب:۔
ادھر یہ مشورے ہو رہے تھے ادھر اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اپنے نبی کو اس مجلس کی کار روائی سے مطلع کر دیا اور ہجرت کی اجازت بھی دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کڑکتی دوپہر میں، جب لوگ عموماً آرام کر رہے ہوتے ہیں، چھپتے چھپاتے سیدنا ابو بکر صدیقؓ کے گھر گئے اور انہیں بتلایا کہ ہجرت کی اجازت مل گئی ہے سیدنا ابو بکر صدیقؓ پہلے ہی اس موقع کے منتظر بیٹھے تھے۔ چنانچہ سیدنا ابو بکر صدیقؓ کے ہمراہ چھپتے چھپاتے غار ثور تک پہنچ گئے۔ (اس کی تفصیل کسی اور مقام پر آئے گی) اسی رات قاتلوں کے گروہ نے آپ کا محاصرہ کرنے کا پروگرام بنا رکھا تھا۔ وہ بروقت اپنی ڈیوٹی پر پہنچ گئے۔ جب صبح تک آپ گھر سے نہ نکلے تو پھر وہ خود اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ سیدنا علیؓ کے سوا کوئی موجود نہیں اور جب انہیں معلوم ہوا کہ آپ جا چکے ہیں تو ان کی برہمی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ کیونکہ اللہ نے ان کی اس پورے ہاؤس کی منظور کردہ تدبیر کو بری طرح ناکام بنا دیا تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی ناپاک سازش ٭٭
کافروں نے یہی تین ارادے کئے تھے جب ابوطالب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے راز اور ان کے پوشیدہ چالیں معلوم بھی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں وہ تین شورشیں کر رہے ہیں قید، قتل یا جلاوطنی۔ } اس نے تعجب ہو کر پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر کس نے دی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میرے پروردگار نے }، اس نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پروردگار بہترین پروردگار ہے، تم اس کی خیر خواہی میں ہی رہنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں اس کی خیر خواہی کیا کرتا وہ خود میری حفاظت اور بھلائی کرتا ہے۔} ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15978:مرسل و ضعیف]
اسی کا ذکر اس آیت میں ہے لیکن اس واقعہ میں ابوطالب کا ذکر بہت غریب بلکہ منکر ہے اس لیے کہ آیت تو مدینے میں اتری ہے اور کافروں کا یہ مشورہ ہجرت کی رات تھا اور یہ واقعہ ابوطالب کی موت کے تقریباً تین سال کے بعد کا ہے۔ اسی کی موت نے ان کی جرأتیں دو بالا کر دی تھیں، اس ہمت اور نصرت کے بعد ہی تو کافروں نے آپ کی ایذاء دہی پر کمر باندھی تھی۔
چنانچہ مسند احمد میں ہے کہ قریش کے تمام قبیلوں کے سرداروں نے دارالندوہ میں جمع ہونے کا ارادہ کیا۔ ملعون ابلیس انہیں ایک بہت بڑے مقطع بزرگ کی صورت میں ملا۔ انہوں نے پوچھا آپ کون ہیں؟ اس نے کہا اہل نجد کا شیخ ہوں۔ مجھے معلوم ہوا تھا کہ آپ لوگ آج ایک مشورے کی غرض سے جمع ہونے والے ہیں، میں بھی حاضر ہوا کہ اس مجلس میں شامل ہو جاؤں اور رائے میں اور خیر خواہی میں کوئی کمی نہ کروں۔
اسی کا ذکر اس آیت میں ہے لیکن اس واقعہ میں ابوطالب کا ذکر بہت غریب بلکہ منکر ہے اس لیے کہ آیت تو مدینے میں اتری ہے اور کافروں کا یہ مشورہ ہجرت کی رات تھا اور یہ واقعہ ابوطالب کی موت کے تقریباً تین سال کے بعد کا ہے۔ اسی کی موت نے ان کی جرأتیں دو بالا کر دی تھیں، اس ہمت اور نصرت کے بعد ہی تو کافروں نے آپ کی ایذاء دہی پر کمر باندھی تھی۔
چنانچہ مسند احمد میں ہے کہ قریش کے تمام قبیلوں کے سرداروں نے دارالندوہ میں جمع ہونے کا ارادہ کیا۔ ملعون ابلیس انہیں ایک بہت بڑے مقطع بزرگ کی صورت میں ملا۔ انہوں نے پوچھا آپ کون ہیں؟ اس نے کہا اہل نجد کا شیخ ہوں۔ مجھے معلوم ہوا تھا کہ آپ لوگ آج ایک مشورے کی غرض سے جمع ہونے والے ہیں، میں بھی حاضر ہوا کہ اس مجلس میں شامل ہو جاؤں اور رائے میں اور خیر خواہی میں کوئی کمی نہ کروں۔
آخرمجلس جمع ہوئی تو اس نے کہا اس شخص کے بارے میں پورے غور و خوض سے کوئی صحیہ رائے قائم کر لو۔ واللہ اس نے تو سب کا ناک میں دم کر دیا ہے۔ وہ دلوں پر کیسے قبضہ کر لیتا ہے؟ کوئی نہیں جو اس کی باتوں کا بھوکوں کی طرح مشتاق نہ رہتا ہو۔ واللہ اگر تم نے اسے یہاں سے نکالا تو وہ اپنی شیریں زبانی اور آتش بیانی سے ہزارہا ساتھی پیدا کر لے گا اور پھر جو ادھر کا رخ کرے گا تو تمہیں چھٹی کا دودھ یاد آ جائے گا پھر تو تمہارے شریفوں کو تہ تیغ کر کے تم سب کو یہاں سے بیک بینی و دوگوش نکال باہر کرے گا۔
سب نے کہا شیخ جی سچ فرماتے ہیں اور کوئی رائے پیش کرو اس پر ابوجہل ملعون نے کہا ایک رائے میری سن لو۔ میرا خیال ہے کہ تم سب کے ذہن میں بھی یہ بات نہ آئی ہو گی، بس یہی رائے ٹھیک ہے، تم اس پر بے کھٹکے عمل کرو۔
سب نے کہا چچا بیان فرما ئیے! اس نے کہا ہر قبیلے سے ایک نوجوان جری بہادر شریف مانا ہوا شخص چن لو یہ سب نوجوان ایک ساتھ اس پر حملہ کریں اور اپنی تلواروں سے اس کے ٹکڑے اڑا دیں پھر تو اس کے قبیلے کے لوگ یعنی بنی ہاشم کو یہ تو ہمت نہ ہو گی قریش کے تمام قبیلوں سے لڑیں کیونکہ ہر قبیلے کا ایک نوجوان اس کے قتل میں شریک ہو گا۔ اس کا خون تمام قبائل قریش میں بٹا ہوا ہو گا نا چار وہ دیت لینے پر آمادہ ہو جائیں گے، ہم اس بلا سے چھوٹ جائیں گے اور اس شخص کا خاتمہ ہو جائے گا۔
اب تو شیخ نجدی اچھل پڑا اور کہنے لگا اللہ جانتا ہے واللہ بس یہی ایک رائے بالکل ٹھیک ہے اس کے سوا کوئی اور بات سمجھ میں نہیں آتی بس یہی کرو اور اس قصے کو ختم کرو اس سے بہتر کوئی صورت نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ یہ پختہ فیصلہ کر کے یہ مجلس برخاست ہوئی۔
سب نے کہا شیخ جی سچ فرماتے ہیں اور کوئی رائے پیش کرو اس پر ابوجہل ملعون نے کہا ایک رائے میری سن لو۔ میرا خیال ہے کہ تم سب کے ذہن میں بھی یہ بات نہ آئی ہو گی، بس یہی رائے ٹھیک ہے، تم اس پر بے کھٹکے عمل کرو۔
سب نے کہا چچا بیان فرما ئیے! اس نے کہا ہر قبیلے سے ایک نوجوان جری بہادر شریف مانا ہوا شخص چن لو یہ سب نوجوان ایک ساتھ اس پر حملہ کریں اور اپنی تلواروں سے اس کے ٹکڑے اڑا دیں پھر تو اس کے قبیلے کے لوگ یعنی بنی ہاشم کو یہ تو ہمت نہ ہو گی قریش کے تمام قبیلوں سے لڑیں کیونکہ ہر قبیلے کا ایک نوجوان اس کے قتل میں شریک ہو گا۔ اس کا خون تمام قبائل قریش میں بٹا ہوا ہو گا نا چار وہ دیت لینے پر آمادہ ہو جائیں گے، ہم اس بلا سے چھوٹ جائیں گے اور اس شخص کا خاتمہ ہو جائے گا۔
اب تو شیخ نجدی اچھل پڑا اور کہنے لگا اللہ جانتا ہے واللہ بس یہی ایک رائے بالکل ٹھیک ہے اس کے سوا کوئی اور بات سمجھ میں نہیں آتی بس یہی کرو اور اس قصے کو ختم کرو اس سے بہتر کوئی صورت نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ یہ پختہ فیصلہ کر کے یہ مجلس برخاست ہوئی۔
وہیں جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا آج کی رات آپ اپنے گھر میں اپنے بسترے پر نہ سوئیں کافروں نے آپ کے خلاف آج میٹنگ میں یہ تجویز طے کی ہے۔
چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کیا اس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر اپنے بستر پر نہ لیٹے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہجرت کی اجازت دے دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینے پہنچ جانے کے بعد اس آیت میں اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا اور ان کے اس فریب کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا «وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّـهُ ۖ وَاللَّـهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ» ’ وہ تو اپنی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیر کر رہا تھا اور سب سے زیاده مستحکم تدبیر واﻻ اللہ ہے۔ ‘
ان کا قول تھا «ثُمَّ تَرَبَّصُوا بِهِ رَيْب الْمَنُون حَتَّى يَهْلِك كَمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْله مِنْ الشُّعَرَاء» اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشادِ باری تعالیٰ ہے «أَمْ يَقُولُونَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهِ رَيْبَ الْمَنُونِ» ۱؎ [52-الطور: 30]، یعنی ’ کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ شاعر ہے ہم اس کے بارے میں حادثہ موت کا انتظار کررہے ہیں۔‘ اس دن کا نام ہی یوم الزحمہ ہو گیا کیونکہ اس روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی سازش کی گئی تھی۔۱؎[دلائل النبوۃ للبیھقی:468/2]
ان کے انہی ارادوں کا ذکر آیت «وَإِن كَادُوا لَيَسْتَفِزُّونَكَ مِنَ الْأَرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا ۖ وَإِذًا لَّا يَلْبَثُونَ خِلَافَكَ إِلَّا قَلِيلًا» ۱؎ [17-الإسراء: 76] میں ہے ’ اور قریب تھا کہ یہ لوگ تمہیں زمین [مکہ] سے پھسلا دیں تاکہ تمہیں وہاں سے جلا وطن کر دیں۔ اور اس وقت تمہارے پیچھے یہ بھی نہ رہتے مگر کم۔‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ شریف میں اللہ کے حکم کے منتظر تھے یہاں تک کہ قریشیوں نے جمع ہو کر مکر کا ارادہ کیا۔ جبرائیل علیہ اسللام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کر دی اور کہا کہ آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مکان میں نہ سوئیں جہاں سویا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلا کر اپنے بسترے پر اپنی سبز چادر اوڑھا کر لیٹنے کو فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر آئے۔ قریش کے مختلف قبیلوں کا مقررہ جتھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دراوزے کو گھیرے کھڑا تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین سے ایک مٹھی مٹی اور کنکر بھر کر ان کے سروں اور آنکھوں میں ڈال کر سورۃ یاسین کی «يس وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ تَنزِيلَ الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ لِتُنذِرَ قَوْمًا مَّا أُنذِرَ آبَاؤُهُمْ فَهُمْ غَافِلُونَ لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلَىٰ أَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ إِنَّا جَعَلْنَا فِي أَعْنَاقِهِمْ أَغْلَالًا فَهِيَ إِلَى الْأَذْقَانِ فَهُم مُّقْمَحُونَ وَجَعَلْنَا مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَأَغْشَيْنَاهُمْ فَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ» ۱؎ [36-یس: 1-9] تک کی تلاوت کرتے ہوئے نکل گئے۔۱؎ [دلائل النبوۃ للبیھقی:469/2:معضل و ضعیف]
چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کیا اس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر اپنے بستر پر نہ لیٹے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہجرت کی اجازت دے دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینے پہنچ جانے کے بعد اس آیت میں اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا اور ان کے اس فریب کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا «وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّـهُ ۖ وَاللَّـهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ» ’ وہ تو اپنی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیر کر رہا تھا اور سب سے زیاده مستحکم تدبیر واﻻ اللہ ہے۔ ‘
ان کا قول تھا «ثُمَّ تَرَبَّصُوا بِهِ رَيْب الْمَنُون حَتَّى يَهْلِك كَمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْله مِنْ الشُّعَرَاء» اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشادِ باری تعالیٰ ہے «أَمْ يَقُولُونَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهِ رَيْبَ الْمَنُونِ» ۱؎ [52-الطور: 30]، یعنی ’ کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ شاعر ہے ہم اس کے بارے میں حادثہ موت کا انتظار کررہے ہیں۔‘ اس دن کا نام ہی یوم الزحمہ ہو گیا کیونکہ اس روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی سازش کی گئی تھی۔۱؎[دلائل النبوۃ للبیھقی:468/2]
ان کے انہی ارادوں کا ذکر آیت «وَإِن كَادُوا لَيَسْتَفِزُّونَكَ مِنَ الْأَرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا ۖ وَإِذًا لَّا يَلْبَثُونَ خِلَافَكَ إِلَّا قَلِيلًا» ۱؎ [17-الإسراء: 76] میں ہے ’ اور قریب تھا کہ یہ لوگ تمہیں زمین [مکہ] سے پھسلا دیں تاکہ تمہیں وہاں سے جلا وطن کر دیں۔ اور اس وقت تمہارے پیچھے یہ بھی نہ رہتے مگر کم۔‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ شریف میں اللہ کے حکم کے منتظر تھے یہاں تک کہ قریشیوں نے جمع ہو کر مکر کا ارادہ کیا۔ جبرائیل علیہ اسللام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کر دی اور کہا کہ آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مکان میں نہ سوئیں جہاں سویا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلا کر اپنے بسترے پر اپنی سبز چادر اوڑھا کر لیٹنے کو فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر آئے۔ قریش کے مختلف قبیلوں کا مقررہ جتھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دراوزے کو گھیرے کھڑا تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین سے ایک مٹھی مٹی اور کنکر بھر کر ان کے سروں اور آنکھوں میں ڈال کر سورۃ یاسین کی «يس وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ تَنزِيلَ الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ لِتُنذِرَ قَوْمًا مَّا أُنذِرَ آبَاؤُهُمْ فَهُمْ غَافِلُونَ لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلَىٰ أَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ إِنَّا جَعَلْنَا فِي أَعْنَاقِهِمْ أَغْلَالًا فَهِيَ إِلَى الْأَذْقَانِ فَهُم مُّقْمَحُونَ وَجَعَلْنَا مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَأَغْشَيْنَاهُمْ فَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ» ۱؎ [36-یس: 1-9] تک کی تلاوت کرتے ہوئے نکل گئے۔۱؎ [دلائل النبوۃ للبیھقی:469/2:معضل و ضعیف]
صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روتی ہوئی آئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ { پیاری بیٹی کیوں رو رہی ہو؟} عرض کیا کہ ابا جی کیسے نہ روؤں یہ قریش خانہ کعبہ میں جمع ہیں لات و عزیٰ کی قسمیں کھا کر یہ طے کیا ہے کہ ہر قبیلے کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی اٹھ کھڑے ہوں اور ایک ساتھ حملہ کر کے قتل کر دیں تاکہ الزام سب پر آئے اور ایک بلوہ قرارپائے کوئی خاص شخص قاتل نہ ٹھہرے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بیٹی پانی لاؤ } پانی آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور مسجد الحرام کی طرف چلے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور دیکھتے ہی غل مچایا کہ لو وہ آ گیا اٹھو اسی وقت ان کے سر جھک گئے ٹھوڑیاں سینے سے لگ گئیں نگاہ اونچی نہ کر سکے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مٹھی مٹی کی بھر کر ان کی طرف پھینکی اور فرمایا: { یہ منہہ الٹے ہو جائیں گے یہ چہرے برباد ہو جائیں }،جس شخص پر ان کنکریوں میں سے کوئی کنکر پڑا وہ ہی بدر والے دن کفر کی حالت میں قتل کیا گیا۔ ۱؎ [مسند احمد:303/1:حسن]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بیٹی پانی لاؤ } پانی آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور مسجد الحرام کی طرف چلے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور دیکھتے ہی غل مچایا کہ لو وہ آ گیا اٹھو اسی وقت ان کے سر جھک گئے ٹھوڑیاں سینے سے لگ گئیں نگاہ اونچی نہ کر سکے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مٹھی مٹی کی بھر کر ان کی طرف پھینکی اور فرمایا: { یہ منہہ الٹے ہو جائیں گے یہ چہرے برباد ہو جائیں }،جس شخص پر ان کنکریوں میں سے کوئی کنکر پڑا وہ ہی بدر والے دن کفر کی حالت میں قتل کیا گیا۔ ۱؎ [مسند احمد:303/1:حسن]
کسی نے کہا صبح کو اسے قید کر دو، کسی نے کہا مار ڈالو، کسی نے کہا دیس نکالا دے دو، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر مطلع فرما دیا۔
اس رات سیدنا علی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بسترے پر سوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکے سے نکل کھڑے ہوئے۔ غار میں جا کر بیٹھے رہے۔
مشرکین یہ سمجھ کر کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بسترے پر لیٹے ہوئے ہیں سار رات پہرہ دیتے رہے صبح سب کود کر اندر پہنچے دیکھا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں ساری تدبیر چوپٹ ہو گئی پوچھا کہ تمہارے ساتھی کہاں ہیں؟ آپ نے اپنی لاعلمی ظاہر کی۔
یہ لوگ قدموں کے نشان دیکھتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے اس پہاڑ تک پہنچ گئے۔ وہاں سے پھر کوئی پتہ نہ چلا سکا۔ پہاڑ پر چڑھ گئے، اس غار کے پاس سے گذرے لیکن دیکھا کہ وہاں مکڑی کا جالا تنا ہوا ہے کہنے لگے اگر اس میں جاتے تو یہ جالا کیسے ثابت رہ جاتا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین راتین اسی غار میں گذاریں۔۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:1129]
پس فرماتا ہے کہ ’ انہوں نے مکر کیا میں بھی ان سے ایسی مضبوط چال چلا کہ آج تجھے ان سے بچا کر لے ہی آیا۔‘
اس رات سیدنا علی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بسترے پر سوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکے سے نکل کھڑے ہوئے۔ غار میں جا کر بیٹھے رہے۔
مشرکین یہ سمجھ کر کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بسترے پر لیٹے ہوئے ہیں سار رات پہرہ دیتے رہے صبح سب کود کر اندر پہنچے دیکھا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں ساری تدبیر چوپٹ ہو گئی پوچھا کہ تمہارے ساتھی کہاں ہیں؟ آپ نے اپنی لاعلمی ظاہر کی۔
یہ لوگ قدموں کے نشان دیکھتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے اس پہاڑ تک پہنچ گئے۔ وہاں سے پھر کوئی پتہ نہ چلا سکا۔ پہاڑ پر چڑھ گئے، اس غار کے پاس سے گذرے لیکن دیکھا کہ وہاں مکڑی کا جالا تنا ہوا ہے کہنے لگے اگر اس میں جاتے تو یہ جالا کیسے ثابت رہ جاتا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین راتین اسی غار میں گذاریں۔۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:1129]
پس فرماتا ہے کہ ’ انہوں نے مکر کیا میں بھی ان سے ایسی مضبوط چال چلا کہ آج تجھے ان سے بچا کر لے ہی آیا۔‘