ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنفال (8) — آیت 28

وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَاۤ اَمۡوَالُکُمۡ وَ اَوۡلَادُکُمۡ فِتۡنَۃٌ ۙ وَّ اَنَّ اللّٰہَ عِنۡدَہٗۤ اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ ﴿٪۲۸﴾
اور جان لو کہ تمھارے مال اور تمھاری اولاد ایک آزمائش کے سوا کچھ نہیں اور یہ کہ اللہ، اسی کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔ En
اور جان رکھو کہ تمہارا مال اور اولاد بڑی آزمائش ہے اور یہ کہ خدا کے پاس (نیکیوں کا) بڑا ثواب ہے
En
اور تم اس بات کو جان رکھو کہ تمہارے اموال اور تمہاری اوﻻد ایک امتحان کی چیز ہے۔ اور اس بات کو بھی جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے پاس بڑا بھاری اجر ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 28) {وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ …:} مال اور اولاد کی محبت انسان کے لیے بہت بڑی آزمائش ہے، کیونکہ عام طور پر انھی کے لیے آدمی خیانت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کا ارتکاب کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ مَجْهَلَةٌ مَحْزَنَةٌ] بے شک بچہ بخل، بزدلی، جہالت اور غم کا باعث ہوتا ہے۔ [صحیح الجامع الصغیر: ۱۹۹۰۔ مستدرک حاکم: 296/3، ح: ۵۲۸۴، عن الأسود بن خلف] درحقیقت اللہ تعالیٰ آزمانا چاہتا ہے کہ آدمی اللہ اور اس کے رسول کے احکام کو ترجیح دیتا ہے، یا مال اور اولاد کی ایسی محبت کو جس سے خیانت اور احکامِ الٰہی کی نافرمانی لازم آتی ہو۔ اس ناجائز محبت پر غالب آنے کا طریقہ اس بات کا یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس بہت ہی بڑا اجر ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

28۔ 1 مال اور اولاد کی محبت ہی عام طور پر انسان کو خیانت پر اور اللہ اور رسول کی اطاعت سے گریز پر مجبور کرتی ہے اس لئے ان کو فتنہ (آزمائش) قرار دیا گیا ہے، یعنی اس کے ذریعے سے انسان کی آزمائش ہوتی ہے کہ ان کی محبت میں امانت اور اطاعت کے تقاضے پورے کرتا ہے یا نہیں؟ اگر پورے کرتا ہے تو سمجھ لو کہ وہ اس آزمائش میں کامیاب ہے۔ بصورت دیگر ناکام۔ اس صورت میں یہی مال اور اولاد اس کے لئے عذاب الٰہی کا باعث بن جائیں گے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

28۔ اور جان لو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد [29] تمہارے لئے آزمائش ہیں اور اللہ کے ہاں اجر دینے کو بہت کچھ ہے
[29] مال اور اولاد سے آزمائش:۔
مال اور اولاد ایسی چیزیں ہیں جن سے انسان کا فطری لگاؤ اور محبت ہوتی ہے اور انہیں کے ذریعہ مسلمان کے ایمان کی آزمائش ہوتی ہے اور یہ آزمائش ایسی پر خطر ہوتی ہے کہ انسان کو احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ آزمائش میں پڑا ہوا ہے۔ سابقہ آیت کی طرح یہ آیت بھی اپنے اندر بڑا وسیع مفہوم رکھتی ہے۔ پھر ان میں سے مال کا فتنہ اولاد کے فتنہ سے شدید ہوتا ہے۔ جیسا درج ذیل احادیث میں واضح ہے۔
1۔ عمر و بن عوفؓ سے روایت ہے (جو بنی عامر کے حلیف تھے) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہارے محتاج ہونے سے نہیں ڈرتا۔ بلکہ میں تو اس بات سے ڈرتا ہوں کہ دنیا تم پر کشادہ کر دی جائے گی جیسے تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کی گئی تھی۔ پھر تم اس میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنے لگ جاؤ، تو وہ تمہیں اس طرح ہلاک کر دے جیسے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا تھا۔ [بخاری، کتاب المغازی، باب، شہود الملائکۃ بدرا]
نیز: [كتاب الرقاق، باب مايحذر من زهرة الدنيا و التنافس فيها]
2۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر امت کی ایک آزمائش ہے اور میری امت کی آزمائش مال ہے۔ [ترمذي بحواله مشكوة، كتاب الرقاق، دوسري فصل]
3۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا ہے۔ محتاج مہاجرین دولت مند مہاجرین سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔
[ترمذي، ابواب الزهد۔ باب ان فقراء المهاجرين يدخلون الجنة قبل اغنياءهم]
4۔ سیدنا عمران بن حصینؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: میں نے جنت میں جھانکا تو دیکھا کہ وہاں ان لوگوں کی کثرت ہے جو دنیا میں محتاج تھے۔ [بخاري، كتاب الرقاق، باب فضل الفقر]
5۔ مال کا فتنہ: ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (خطبہ ارشاد فرمانے) منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: اپنے بعد میں جس بات سے ڈرتا ہوں وہ یہ ہے کہ زمین کی برکتیں تم پر کھول دی جائیں گی۔ (تم مالدار ہو جاؤ گے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی آرائش کا بیان شروع کیا، پہلے ایک بات بیان کی، پھر دوسری۔ اس دوران ایک شخص کھڑا ہو کر کہنے لگا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا بھلائی سے برائی پیدا ہو گی؟ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے ہم سمجھے کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے اور لوگ ایسے خاموش بیٹھے تھے جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منہ سے پسینہ پونچھا (وحی بند ہوئی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: وہ سائل کہاں ہے جو ابھی پوچھ رہا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کا جواب دیتے ہوئے تین بار فرمایا: ”مال و دولت سے بھلائی ہی نہیں ہوتی۔ پھر فرمایا: بھلائی سے تو بھلائی ہی پیدا ہوتی ہے مگر بہار کے موسم میں جب ہری ہری گھاس پیدا ہوتی ہے (جو ایک نعمت ہے، اس کا زیادہ کھا لینا) جانور کو یا تو مار ڈالتا ہے یا مرنے کے قریب کر دیتا ہے۔ الا یہ کہ جانور اپنی کوکھیں بھرنے کے بعد دھوپ میں جا کھڑا ہو اور پیشاب کرے پھر اس کے ہضم ہو جانے کے بعد اور گھاس چرے اور یہ مال و دولت بھی ہرا بھرا اور شیریں ہے اور بہتر مسلمان وہ ہے جو اپنے حق کے مطابق ہی لے پھر اس میں سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اور یتیموں اور مسکینوں پر خرچ کرے اور جو شخص اپنے حق پر اکتفا نہ کرے اس کی مثال اس کھانے والے کی سی ہے جس کا پیٹ بھرتا ہی نہیں اور یہ مال قیامت کے دن اس کے خلاف گواہی دے گا۔“
[بخاری، کتاب الجہاد، باب فضل النفقہ فی سبیل اللہ]
6۔ ابراہیم بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ عبد الرحمن بن عوفؓ کے سامنے ایک روز کھانا رکھا گیا۔ تو کہنے لگے مصعب بن عمیرؓ جنگ احد میں شہید ہو گئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے ان کے کفن کے لیے ایک چادر ملی اور حمزہ یا کسی اور کا نام لے کر کہا کہ وہ شہید ہوئے اور وہ بھی مجھ سے بہتر تھے ان کے کفن کو بھی صرف ایک چادر تھی۔ میں ڈرتا ہوں کہیں ایسا نہ ہو کہ عیش و آرام کے سامان ہمیں دنیا میں ہی دے دیئے جائیں، یہ کہہ کر رونا شروع کر دیا۔ [بخاري، كتاب الجنائز، باب الكفن من جميع المال]
7۔ سیدنا ابو ذر غفاریؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلا شبہ قیامت کے دن بہت مال و دولت رکھنے والے ہی زیادہ نادار ہوں گے۔ مگر جسے اللہ نے دولت دی اور اس نے اپنے دائیں سے بائیں سے، آگے سے، پیچھے سے ہر طرف سے دولت کو اللہ کی راہ میں لٹا دیا اور اس مال سے بھلائی کمائی۔
[بخاری، کتاب الرقاق، باب المکثرون ہم المقلون]
8۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ عز و جل سے ڈرتا ہو اس کو دولت مندی کا کوئی خطرہ نہیں۔“ [احمد، بحواله مشكوة، باب استحباب المال، فصل ثالث]
اولاد کے ذریعہ آزمائش کیسے ہوتی ہے؟
اور اولاد کے ذریعہ انسان کی آزمائش کا دائرہ مال کی آزمائش سے زیادہ وسیع ہے۔ اولاد اگر کسی کے ہاں نہ ہو تو بھی یہ ایک آزمائش ہے۔ ایسی صورت میں انسان اور بالخصوص عورتیں شرک جیسے بدترین گناہ پر آمادہ ہو جاتی ہیں اور پیروں فقیروں کے مزاروں اور مقبروں کے طواف کرتی اور ان کی منتیں مانتی ہیں اور اگر کسی کے ہاں زیادہ ہو تو وہ دوسری طرح آزمائش ہوتی ہے۔ کفار مکہ میں جو قتل اولاد کا دستور عام رائج تھا تو اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ ہم انہیں کھلائیں گے کہاں سے؟ گویا اولاد کے رزق کا اپنے آپ کو ٹھیکیدار سمجھنا اور اللہ پر قطعاً توکل نہ کرنا بھی شرک سے ملتا جلتا اور بعض پہلوؤں میں اس سے بڑھ کر کبیرہ گناہ ہے۔ پھر اولاد کی تربیت کا مرحلہ آتا ہے تو یہ بھی انسان کے لیے بہت بڑی آزمائش کا وقت ہوتا ہے کہ آیا وہ اپنی اولاد کو دینی تربیت دیتا اور دین کی راہ پر چلاتا ہے یا محض ان کے لئے دنیا کمانے کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور یہ انسان کی زندگی کا ایسا نازک موڑ ہوتا ہے جس کے اچھے یا برے نتائج خود اس کو اس دنیا میں بھگتنا پڑتے ہیں اور آخرت میں تو ان پر سزا و جزا کا مرتب ہونا ایک یقینی بات ہے۔ پھر اس کے بعد اولاد کی آرزوؤں کی تکمیل کا مرحلہ پھر ان کی شادی اور شادی کے سلسلہ میں رشتہ کے انتخاب کا مرحلہ آتا ہے کہ وہ کس قسم کا رشتہ اپنے بیٹے یا بیٹی کے لیے پسند کرتا ہے اور یہ بھی ایسا مرحلہ ہوتا ہے جس کے نتائج انتہائی دور رس ہوتے ہیں اور ایسے ہی مرحلہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شخص اپنی دینداری کے دعویٰ میں کس حد تک سچا اور مخلص ہے اور اسے اللہ اور اس کے رسول سے کس قدر محبت ہے۔ مختصر یہ کہ اولاد کا فتنہ ایسا فتنہ ہے جس کے ذریعہ انسان کی ہر وقت آزمائش ہوتی رہتی ہے۔ پھر بعض دفعہ مال اور اولاد دونوں کے فتنے ایک فتنہ میں مشترک ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ بعض مسلمانوں نے محض مال اور اولاد کی خاطر مدینہ کی طرف ہجرت نہیں کی تھی۔ حالانکہ اگر وہ چاہتے تو ان میں ہجرت کرنے کی استطاعت موجود تھی۔ ان پر جائیداد اور اولاد کی محبت غالب آگئی اور انہوں نے کافروں میں رہنا اور ذلت کی زندگی بسر کرنا گوارا کر لیا۔ ایسے مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں سخت وعید فرمائی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اللہ اور اس کے رسول کی خیانت نہ کرو ٭٭
کہتے ہیں کہ یہ آیت ابولبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے۔ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کے یہودیوں کے پاس بھیجا تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کی شرط کے ماننے پر قلعہ خالی کر دیں ان یہودیوں نے آپ ہی سے مشورہ دریافت کیا تو آپ نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیر کر انہیں بتا دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ تمہارے حق میں یہی ہوگا۔
اب ابو لبابہ رضی اللہ عنہ بہت ہی نادم ہوئے کہ افسوس میں نے بہت برا کیا اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خیانت کی۔ اسی ندامت کی حالت میں قسم کھا بیٹھے کہ جب تک میری توبہ قبول نہ ہو میں کھانے کا ایک لقمہ بھی نہ اٹھاؤں گا چاہے مر ہی جاؤں۔ مسجد نبوی میں آ کر ایک ستون کے ساتھ اپنے تئیں بندھوا دیا نو دن اسی حالت میں گذر گئے غشی آ گئی بیہوش ہو کر مردے کی طرح گر پڑے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی توبہ قبول کر لی اور یہ آیتیں نازل ہوئیں لوگ آئے آپ کو خوشخبری سنائی اور اس ستون سے کھولنا چاہاتو انہوں نے فرمایا واللہ میں اپنے تئیں کسی سے نہ کھلواؤں گا بجز اس کے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ مبارک سے کھولیں۔
چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لائے اور اپنے ہاتھ سے انہیں کھولا تو آپ عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے نذر مانی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول کر لے تو میں اپنا کل مال راہ للہ صدقہ کر دونگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: { نہیں صرف ایک تہائی فی سبیل اللہ دے دو یہی کافی ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15937:مرسل]‏‏‏‏
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ امیر کو فتنہ و فساد کرکے قتل کردینا اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خیانت ہے۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15939:ضعیف]‏‏‏‏
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ابوسفیان مکے سے چلا جبر ئیل علیہ السلام نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ ابوسفیان فلاں جگہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے ذکر کیا اور فرما دیا کہ { اس طرف چلو لیکن کسی کو کانوں کان خبر نہ کرنا }،لیکن ایک منافق نے اسے لکھ بھیجا کہ تیرے پکڑنے کے ارادے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں ہوشیار رہنا۔
پس یہ آیت اتری لیکن یہ روایت بہت غریب ہے اور اس کی سند اور متن دونوں ہی قابل نظر ہیں۔
بخاری و مسلم میں حاطب بن ابو بلتعہ رضی اللہ عنہ کا قصہ ہے کہ فتح مکہ والے سال انہوں نے قریش کو خط بھیج دیا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادے سے انہیں مطلع کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی ان کے پیچھے دوڑائے اور خط پکڑا گیا۔ حاطب رضی اللہ عنہ نے اپنے قصور کا اقرار کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی گردن مارنے کی اجازت چاہی کہ اس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں سے خیانت کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اسے چھوڑ دو یہ بدری صحابی ہے۔ تم نہیں جانتے بدری کی طرف اللہ تعالیٰ نے بذات خود فرما دیا ہے جو چاہو تم کرو میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3007]‏‏‏‏
میں کہتا ہوں کسی خاص واقعہ کے بارے میں اترنے کے باوجود الفاظ کی عمومیت اپنے حکم عموم پر ہی رہے گی یہی جمہور علماء کا قول ہے۔ خیانت عام ہے چھوٹے بڑے لازم متعدی سب گناہ خیانت میں داخل ہیں۔ اپنی امانتوں میں بھی خیانت نہ کرو یعنی فرض کو ناقص نہ کرو، پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو نہ چھوڑو، اس کی نافرمانی نہ کرو۔
عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کسی کے سامنے اس کے حق کا اظہار کرنا اور درپردہ کرنا اس کے الٹ، باتیں کرنا اور کے سامنے اس کے خلاف کرنا بھی امانت کو ضائع کرنا اور اپنے نفس کی خیانت کرنا ہے۔
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب کسی نے اللہ و رسول کی خیانت کی تو اس نے امانت داری میں رخنہ ڈال دیا، ایک صورت اس کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ بھی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی پھر اسے مشرکوں میں پھیلا دیا۔ پس منافقوں کے اس فعل سے مسلمانوں کو روکا جا رہا ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تمہارے امتحان کا باعث ہیں ‘۔ یہ دیکھیں آیا اللہ کا شکر کرتے ہو اور اس کی اطاعت کرتے ہو؟ یا ان میں مشغول ہو کر، ان کی محبت میں پھنس کر اللہ کی باتوں اور اس کی اطاعت سے ہٹ جاتے ہو؟ اسی طرح ہر خیرو شر سے اللہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔
اس کا ارشاد ہے کہ «‏‏‏‏إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ» ۱؎ [64-التغابن: 15]‏‏‏‏ یعنی ’ تمہارا مال اور تمہاری اولاد تو آزمائش ہے ‘، مسلمانو مال و اولاد کے چکر میں اللہ کی یاد نہ بھول جانا۔ ایسا کرنے والے نقصان پانے والے ہیں
اور آیت میں ہے کہ «‏‏‏‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ» ۱؎ [64-التغابن: 14]‏‏‏‏ ’ تمہاری بعض بیویاں اور بعض اولادیں تمہاری دشمن ہیں، ان سے ہوشیار رہنا۔ سمجھ لو کہ اللہ کے پاس اجر یہاں کے مال و اولاد سے بہت بہتر ہیں اور بہت بڑے ہیں کیونکہ ان میں سے بعض تو دشمن ہی ہوتے ہیں اور اکثر بینفع ہوتے ہیں۔‘
اللہ سبحانہ و تعالیٰ متصرف و مالک ہے، دنیا و آخرت اسی کی ہے قیامت کے ثواب اسی کے قبضے میں ہیں، ایک اثر میں فرمان الٰہی ہے کہ ’ اے ابن آدم مجھے ڈھونڈ تو پائے گا، مجھے پالینا تمام چیزوں کو پالینا ہے، میرا فوت ہو جانا تمام چیزوں کا فوت ہو جانا ہے، میں تیری تمام چیزوں سے تیری محبت کا زیادہ حقدار ہوں۔ ‘
صحیح حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے { تین چیزیں جس میں ہوں اس نے ایمان کی مٹھاس چکھ لی [1]‏‏‏‏ جسے اللہ اور اس کا رسول سب سے زیادہ پیارا ہو، [2]‏‏‏‏ جو محض اللہ کے لیے دوستی رکھتا ہو اور [3]‏‏‏‏ جسے آگ میں جل جانے سے بھی زیادہ برا ایمان کے بعد کفر کرنامعلوم ہوتا ہو۔ }
بلکہ یاد رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بھی اولاد و مال اور نفس کی محبت پر مقدم ہے جیسے کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی باایمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کو اس کے نفس سے اور اہل سے اور مال سے اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔}