ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنفال (8) — آیت 10

وَ مَا جَعَلَہُ اللّٰہُ اِلَّا بُشۡرٰی وَ لِتَطۡمَئِنَّ بِہٖ قُلُوۡبُکُمۡ ۚ وَ مَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿٪۱۰﴾
اور اللہ نے اسے نہیں بنایا مگر ایک خوش خبری اور تاکہ اس کے ساتھ تمھارے دل مطمئن ہوں اور مدد نہیں ہے مگر اللہ کے پاس سے۔ بے شک اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ En
اور اس مدد کو خدا نے محض بشارت بنایا تھا کہ تمہارے دل سے اطمینان حاصل کریں۔ اور مدد تو الله ہی کی طرف سے ہے۔ بےشک خدا غالب حکمت والا ہے
En
اور اللہ تعالیٰ نے یہ امداد محض اس لیے کی کہ بشارت ہو اور تاکہ تمہارے دلوں کو قرار ہو جائے اور مدد صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو کہ زبردست حکمت واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 10) ➊ {وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى …:} آیت کے ان الفاظ سے بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ فرشتوں نے خود لڑنے میں کوئی حصہ نہیں لیا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں مسلمانوں کی مدد کے لیے محض اس لیے بھیجا تھا کہ ان کے حوصلے بلند ہوں اور انھیں اطمینان رہے کہ ان کی مدد کے لیے فرشتے موجود ہیں، لیکن یہ خیال صحیح نہیں۔ صحیح مسلم میں ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ اس دوران میں کہ ایک مسلمان مشرکین میں سے ایک آدمی کے پیچھے دوڑ رہا تھا کہ اس نے کوڑا مارنے کی ضرب کی آواز سنی اور ایک سوار کی آواز سنی جو کہہ رہا تھا حیزوم! آگے بڑھو۔ اس نے اس مشرک کو دیکھا کہ وہ چت گر گیا ہے، دیکھا تو اس کی ناک پر نشان تھا، چہرہ پھٹ گیا تھا، جس طرح کوڑا مارنے سے ہوتا ہے اور وہ ساری جگہ سبز ہو گئی تھی۔ وہ انصاری آیا اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات بیان کی، تو آپ نے فرمایا: تم نے سچ کہا، یہ تیسرے آسمان کی مدد میں سے تھا۔ [مسلم، الجھاد، باب الامداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر…: ۱۷۶۳] بدر کے بعد بھی اللہ تعالیٰ نے کئی جنگوں میں فرشتوں کے ساتھ مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ میں نے بہت سے قابل اعتماد لوگوں سے سنا کہ متحدہ ہندوستان میں حافظ عبد اللہ روپڑی رحمہ اللہ کے حکم پر مسلمانوں نے عید الاضحی کے دن گائیں ذبح کیں، تو ہندوؤں اور سکھوں نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا، مسلمانوں نے تھوڑی تعداد میں ہونے کے باوجود مقابلہ کیا تو کفار کثیر تعداد میں قتل ہوئے اور بھاگ گئے۔ جب مقدمہ چلا تو جنگ میں شریک مسلمان اور کافر پیش ہوئے، کفار کو شناخت کے لیے کہا گیا تو انھوں نے کہا، ہم سے تو وہ لوگ لڑے ہیں جو سفید لباس میں ملبوس گھوڑوں پر سوار تھے، حالانکہ مسلمانوں میں سے کوئی بھی اس حالت میں نہ تھا۔ کشمیر میں کفار کے خلاف کار روائیوں کے دوران بھی فرشتوں کی مدد کے کئی واقعات پیش آئے ہیں جو مجلہ الدعوۃ اور غزوہ کے مختلف شماروں میں شائع ہوئے ہیں۔ شاعر نے سچ کہا ہے:
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی
➋ {وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ …:} یعنی یہ نہ سمجھو کہ تمھیں جو فتح نصیب ہوئی ہے وہ ان فرشتوں کی وجہ سے ہوئی ہے، بلکہ حقیقت میں مدد اللہ کی طرف سے ہے، وہ چاہتا تو فرشتوں کے بغیر ہی تمھیں فتح عطا کر دیتا، مگر جہاد کو دین کا حصہ بنانے سے تمھارے ایمان کا امتحان، تمھارے ہاتھوں کافروں کو ذلیل اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہادت سے سرفراز کرنا مقصود ہے۔ پہلی امتوں میں سے جو امت اپنے پیغمبر کو جھٹلاتی اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی نہ کسی طرح کا عذاب نازل ہو جاتا، پانی میں غرق کرنا، خوف ناک چیخ، زلزلہ، پتھروں کی بارش اور شکلیں مسخ کر دینا وغیرہ۔ نوح علیہ السلام کی قوم کے غرق ہونے سے لے کر فرعون کے غرق ہونے تک یہی سلسلہ قائم رہا۔ آخر کار جب موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل ہوئی تو جہاد شروع ہوا اور اس کے بعد یہی طریقہ جاری ہے، اب اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے ہاتھوں کفار کو عذاب دینا چاہتا ہے، فرمایا: «{ قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَ يُخْزِهِمْ … }» [التوبۃ: ۱۴، ۱۵] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کے چھ فائدے بیان فرمائے ہیں، تفصیل کے لیے سورۂ توبہ میں ان آیات کی تفسیر دیکھیے۔ اگرچہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد بھی آسمان سے عذاب کے بعض واقعات پیش آئے، جیسے اصحاب الفیل کا واقعہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق آپ کی امت میں شراب، زنا، ریشم اور باجوں گاجوں کو حلال کرلینے والوں پر زمین میں دھنس جانے اور بندر اور خنزیر بنا دیے جانے کے عذاب آئیں گے۔ [بخاری، الأشربۃ، باب ما جاء فیمن یستحل الخمر…: ۵۵۹۰، عن أبی مالک الأشعری رضی اللہ عنہ] مگر وہ عبرت کے لیے ہوں گے اور جزوی، یعنی کہیں کہیں ہوں گے۔ کفار کو کفر سے روکنے اور ان کی سرکشی ختم کرکے انھیں اسلام کے زیر نگیں لانے کی ذمہ داری اب جہاد کے ذریعے سے مسلمانوں ہی پر ہے، جس میں یقینا اللہ تعالیٰ کی مدد بھی شامل ہو گی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

10۔ 1 یعنی فرشتوں کا نزول تو صرف خوشخبری اور تمہارے دلوں کے اطمینان کے لئے تھا ورنہ اصل مدد تو اللہ کی طرف سے تھی جو فرشتوں کے بغیر بھی تمہاری مدد کرسکتا تھا تاہم اس سے یہ سمجھنا بھی صحیح نہیں کہ فرشتوں نے عملاً جنگ میں حصہ نہیں لیا احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگ میں فرشتوں نے عملی حصہ لیا اور کئی کافروں کو انہوں نے تہ تیغ کیا (صحیح بخاری)۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

10۔ یہ بات اللہ نے تمہیں صرف اس لیے بتلا دی کہ تم خوش ہو جاؤ اور تمہارے دل [12] مطمئن ہو جائیں ورنہ مدد تو جب بھی ہو اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے یقیناً اللہ بڑا زبردست اور حکمت والا ہے
[12] فرشتوں کی اطلاع ثابت قدم رکھنے کے لئے:۔
یعنی اگر اللہ چاہتا تو فرشتوں کے بغیر بھی تمہاری مدد کر سکتا اور تمہیں کامیابی سے ہمکنار کر سکتا تھا، اور اگر فرشتے بھیج کر مدد کی تو بھی اسی کی مدد تھی۔ تمہیں پہلے مطلع کرنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ تم کہیں اپنے سے تین گنا کافروں کا مسلح لشکر دیکھ کر حوصلہ نہ چھوڑ بیٹھو، یہ اطلاع فقط تمہارا حوصلہ بڑھانے اور تمہیں ثابت قدم رکھنے کی وجہ سے دی گئی تھی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

سب سے پہلا غزوہ بدر بنیاد لا الہ الا اللہ ٭٭
مسند احمد میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدر والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کی طرف نظر ڈالی وہ تین سو سے کچھ اوپر تھے پھر مشرکین کو دیکھا ان کی تعدد ایک ہزار سے زیادہ تھی۔ اسی وقت آپ قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے چادر اوڑھے ہوئے تھے اور تہبند باندھے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنا شروع کی کہ { الٰہی جو تیرا وعدہ ہے اسے اب پورا فرما الٰہی جو وعدہ تو نے مجھ سے کیا ہے وہی کر اے اللہ اہل اسلام کی یہ تھوڑی سی جماعت اگر ہلاک ہو جائے گی تو پھر کبھی بھی تیری توحید کے ساتھ زمین پر عبادت نہ ہو گی۔ یونہی آپ دعا اور فریاد میں لگے رہے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں پر سے اتر گئی اسی وقت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آگے بڑھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر اٹھا کر آپ کے جسم مبارک پر ڈال کر (‏‏‏‏پیچھے سے آپ کو اپنی بانہوں میں لے کر) کو آپ کو وہاں سے ہٹانے لگے اور عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب بس کیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے جی بھر کر دعا مانگ لی وہ اپنے وعدے کو ضرور پورا کرے گا اسی وقت یہ آیت اتری۔}
اس کے بعد مشرک اور مسلمان آپس میں لڑائی میں گتھم گتھا ہو گئے اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو شکست دی ان میں سے ستر شخص تو قتل ہوئے اور ستر قید ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قیدی کفار کے بارے میں سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا علی رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا۔
سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے تو فرمایا رسول اللہ آخر یہ ہمارے کنبے برادری کے خویش و اقارب ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فدیہ لے کر چھوڑ دیجئیے مال ہمیں کام آئے گا اور کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ کل انہیں ہدایت دیدے اور یہ ہمارے قوت و بازو بن جائیں۔
اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا۔ آپ نے فرمایا میری رائے تو اس بارے میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے کے خلاف ہے میرے نزدیک تو ان میں سے فلاں جو میرا قریشی رشتہ دار ہے مجھے سونپ دیجئیے کہ میں اس کی گردن ماروں اور عقیل کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سپرد کیجئے کہ وہ اس کا کام تمام کریں اور حمزہ رضی اللہ عنہ کے سپرد ان کا فلاں بھائی کیجئے کہ وہ اسے صاف کر دیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے یہ ظاہر کر دیں کہ ہمارے دل ان مشرکوں کی محبت سے خالی ہیں، اللہ رب العزت کے نام پر انہیں چھوڑ چکے ہیں اور رشتہ داریاں ان سے توڑ چکے ہیں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ لوگ سرداران کفر ہیں اور کافروں کے گروہ ہیں۔ انہیں زندہ چھوڑنا مناسب نہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مشورہ قبول کیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بات کی طرف مائل نہ ہوئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دوسرے دن صبح ہی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رو رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آخر اس رونے کا کیا سبب ہے؟ اگر کوئی ایسا ہی باعث ہو تو میں بھی ساتھ دوں ورنہ تکلف سے ہی رونے لگوں کیونکہ آپ دونوں بزرگوں کو روتا دیکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ رونا بوجہ اس عذاب کے ہے جو تیرے ساتھیوں پر فدیہ لے لینے کے باعث پیش ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس کے ایک درخت کی طرف اشارہ کر کے فرمایا دیکھو اللہ کا عذاب اس درخت تک پہنچ چکا ہے۔ } اسی کا بیان آیت «‏‏‏‏مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗٓ اَسْرٰي حَتّٰي يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ ۭتُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللّٰهُ يُرِيْدُ الْاٰخِرَةَ ۭوَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» ‏‏‏‏ ۱؎ [8- الانفال: 67]‏‏‏‏ سے «‏‏‏‏فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَيِّبًا ڮ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» ۱؎ [8- الانفال: 69]‏‏‏‏ تک ہے ـ
پس اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت حلال فرمایا پھر اگلے سال جنگ احد کے موقعہ پر فدیہ لینے کے بدلے ان کی سزا طے ہوئی ستر مسلمان صحابہ شہید ہوئے لشکر اسلام میں بھگدڑ مچ گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے چار دانت شہید ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر جو خود تھا وہ ٹوٹ گیا چہرہ خون آلودہ ہو گیا۔
پس یہ آیت اتری «‏‏‏‏اَوَلَمَّآ اَصَابَتْكُمْ مُّصِيْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَيْھَا ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا ۭ قُلْ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [3- آل عمران: 165]‏‏‏‏، ’ یعنی جب تمہیں مصیبت پہنچی تو کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آ گئی؟ جواب دے کہ یہ خود تمہاری اپنی طرف سے ہے۔ تم اس سے پہلے اس سے دگنی راحت بھی تو پا چکے ہو یقین مانو کہ اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔ ‘
مطلب یہ ہے کہ یہ فدیہ لینے کا بدل ہے یہ حدیث مسلم شریف وغیرہ میں بھی ہے۔۱؎ [صحیح مسلم:1763]‏‏‏‏
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا فرمان ہے کہ یہ آیت «إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ» الخ انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے بارے میں ہے اور روایت میں ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا میں اپنا پورا مبالغہ کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب مناجات ختم کیجئے اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہے وہ اسے ضرور پورا کرے گا۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15754]‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر میں صحیح بخاری شریف میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مقداد بن اسود نے ایک ایسا کام کیا کہ اگر میں کرتا تو مجھے اپنے اور تمام اعمال سے زیادہ پسندیدہ ہوتا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مشرکوں پر بد دعا کر رہے تھے تو آپ آئے اور کہنے لگے ہم آپ سے وہ نہیں کہیں گے جو قوم موسیٰ نے کہا تھا کہ «فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ» ۱؎ [5-المائدہ: 24]‏‏‏‏ خود اپنے رب کو ساتھ لے کر جا اور لڑ بھڑ لو بلکہ ہم جو کہتے ہیں وہ کر کے بھی دکھائیں گے چلئے ہم آپ کے دائیں بائیں برابر کفار سے جہاد کریں گے آگے پیچھے بھی ہم ہی ہم نظر آئیں گے میں نے دیکھا کہ ان کے اس قول سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو گئے اور آپ کا چہرہ مبارک چمکنے لگا۔
ایک اور روایت میں ہے کہ اس دعا کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے ہوئے تشریف لائے کہ{ «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [54-القمر: 45]‏‏‏‏ عنقریب مشرکین شکست کھائیں گے اور پیٹھ دکھائیں گے۔} ۱؎ [صحیح بخاری:3953]‏‏‏‏
ارشاد ہوا کہ «إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُم بِأَلْفٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ» یعنی ’ ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری امداد کی جائے گی جو برابر ایک دوسرے کے پیچھے سلسلہ وار آئیں گے اور تمہاری مدد کریں گے ایک کے بعد ایک آتا رہے گا۔‘
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر کے دائیں حصے میں آئے تھے جس پر کمان سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تھی اور بائیں حصے پر میکائیل علیہ السلام ایک ہزار فرشتوں کی فوج کے ساتھ اترے تھے۔ اس طرف میری کمان تھی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15769:ضعیف]‏‏‏‏ ایک قرأت میں «مُرْدَفِينَ» بھی ہے۔
مشہور یہ ہے کہ ان دونوں فرشتوں کے ساتھ پانچ پانچ سو فرشتے تھے جو بطور امداد آسمان سے بحکم الٰہی اترے تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک مسلمان ایک کافر پر حملہ کرنے کیلئے اس کا تعاقت کر رہا تھا کہ اچانک ایک کوڑا مانگنے کی آواز اور ساتھ ہی ایک گھوڑ سوار کی آواز آئی کہ اے خیروم آگے بڑھ وہیں دیکھا کہ وہ مشرک چت گرا ہوا ہے اس کا منہ کوڑے کے لگنے سے بگڑ گیا ہے اور ہڈیاں پسلیاں چور چور ہو گئی ہیں۔
اس انصاری صحابی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تو سچا ہے یہ تیری آسمانی مدد تھی۔ } پس اس دن ستر کافر قتل ہوئے اور ستر قید ہوئے۔۱؎ [صحیح مسلم:1763]‏‏‏‏
امام بخاری رحمہ اللہ نے باب باندھا ہے کہ بدر والے دن فرشتوں کا اترنا پھر حدیث لائے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور پوچھا کہ بدری صحابہ رضی اللہ عنہم کا درجہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں کیسا سمجھا جاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اور مسلمانوں سے بہت افضل۔} جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اس طرح بدر میں آنے والے فرشتے بھی اور فرشتوں میں افضل گنے جاتے ہیں۔۱؎ [صحیح بخاری:3992]‏‏‏‏
بخاری اور مسلم میں ہے کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حاطب بن ابو بلتعہ رضی اللہ عنہ کے قتل کا مشورہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { وہ تو بدری صحابی ہیں تم نہیں جانتے اللہ تعالیٰ نے بدریوں پر نظر ڈالی اور فرمایا تم جو چاہے کرو میں نے تمہیں بخش دیا۔ }۱؎ [صحیح بخاری:3007]‏‏‏‏
پھر اللہُ سُبْحَانَہُ وَ تَعَالَىٰ فرماتا ہے کہ «وَمَا جَعَلَهُ اللَّـهُ إِلَّا بُشْرَىٰ وَلِتَطْمَئِنَّ بِهِ قُلُوبُكُمْ ۚ وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّـهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ» ۱؎ [8-الأنفال:10]‏‏‏‏ ’ فرشتوں کا بھیجنا اور تمہیں اس کی خوشخبری دینا صرف تمہاری خوشی اور اطمینان دل کے لیے تھا ورنہ اللہ تعالیٰ ان کو بھیجے بغیر بھی اس پر قادر ہے جس کی چاہے مدد کرے اور اسے غالب کر دے۔ ‘ بغیر نصرت پروردگار کے کوئی فتح پا نہیں سکتا اللہ ہی کی طرف سے مدد ہوتی ہے۔
جیسے فرمان ہے آیت «فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّىٰ تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ۚ ذَٰلِكَ وَلَوْ يَشَاءُ اللَّـهُ لَانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَـٰكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ ۗ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ» ‏‏‏‏ ۱؎ [47- محمد: 6-4]‏‏‏‏، یعنی ’ کافروں سے جب میدان ہو تو گردن مارنا ہے جب اس میں کامیابی ہو جائے تو پھر قید کرنا ہے۔ اس کے بعد یا احسان کے طور پر چھوڑ دینا یا فدیہ لے لینا ہے یہاں تک کہ لڑائی موقوف ہو جائے۔ ‘
یہ ظاہری صورت ہے «فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَلِكَ وَلَوْ يَشَاءُ اللَّهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَكِنْ لِيَبْلُوَ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَنْ يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ» یعنی ’ اگر رب چاہے تو آپ ہی ان سے بدلے لے لے لیکن وہ ایک سے ایک کو آزما رہا ہے اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کے اعمال اکارت نہیں جائیں گے۔ انہیں اللہ تعالیٰ راہ رکھائے گا اور انہیں خوشحال کر دے گا اور جان پہچان کی جنت میں لے جائے گا۔‘ ۱؎ [47-محمد:4-6]‏‏‏‏
اور آیت میں ہے «وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُھَا بَيْنَ النَّاسِ ۚ وَلِيَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاۗءَ ۭ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ وَلِيُمَحِّصَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَمْحَقَ الْكَافِرِينَ» ۱؎ [3- آل عمران: 141، 140]‏‏‏‏، ’ یہ دن ہم لوگوں میں گھماتے رہتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ جانچ لے اور شہیدوں کو الگ کر لے ظالموں سے اللہ ناخوش رہتا ہے اس میں ایمانداروں کا امتیاز ہو جاتا ہے اور یہ کفار کے مٹانے کی صورت ہے۔‘
جہاد کا شرعی فلسفہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرکوں کو موحدوں کے ہاتھوں سزا دیتا ہے۔ اس سے پہلے عام آسمانی عذابوں سے وہ ہلاک کر دیئے جاتے تھے جیسے قوم نوح پر طوفان آیا، عاد والے آندھی میں تباہ ہوئے، ثمودی چیخ سے غارت کر دیئے گئے، قوم لوط پر پتھر بھی برسے، زمین میں بھی دھنسائے گئے اور ان کی بستیاں الٹ دی گئیں، قوم شعیب پر ابر کا عذاب آیا۔
پھر موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں دشمنان دین مع فرعون اور اس کی قوم اور اس کے لشکروں کے ڈبو دیئے گئے۔ اللہ نے توراۃ اتاری اور اس کے بعد سے اللہ کا حکم جاری ہو گیا جیسے فرمان ہےآیت «‏‏‏‏وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَآ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَاۗىِٕرَ للنَّاسِ وَهُدًى وَّرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ» [28- القص: 43]‏‏‏‏ یعنی ’ پہلی بستیوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰ کو کتاب دی جو سوچنے سمجھنے کی بات تھی۔‘
پھر سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ہاتھوں کافروں کو سزا دینا شروع کر دیا تاکہ مسلمانوں کے دل صاف ہو جائیں اور کافروں کی ذلت اور بڑھ جائے جیسے اس امت کو اللہ جل شانہ کا حکم ہے آیت «‏‏‏‏قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [9- التوبہ: 14]‏‏‏‏، یعنی ’ اے مومنو! ان سے جہاد کرو اللہ انہیں تمہارے ہاتھوں سزا دے گا انہیں ذلیل کرے گا اور تمہیں ان پر مدد عطا فرما کر مومنوں کے سینے صاف کر دے گا۔ ‘
اسی میدان بدر میں گھمنڈ و نخوت کے پتلوں کا، کفر کے سرداروں کا ان مسلمانوں کے ہاتھ قتل ہونا جن پر ہمیشہ ان کی نظریں ذلت و حقارت کے ساتھ پڑتی رہیں کچھ کم نہ تھا۔ ابوجہل اگر اپنے گھر میں اللہ کے کسی عذاب سے ہلاک ہو جاتا تو اس میں وہ شان نہ تھی جو معرکہ قتال میں مسلمانوں کے ہاتھوں ٹکڑے ہونے میں ہے۔ جیسے کہ ابولہب کی موت اسی طرح کی واقع ہوئی تھی کہ اللہ کے عذاب میں ایسا سڑا کہ موت کے بعد کسی نے نہ تو اسے نہلایا نہ دفنایا بلکہ دور سے پانی ڈال کر لوگوں نے پتھر پھینکنے شروع کئے اور انہیں میں وہ دب گیا۔ اللہ عزت والا ہے پھر اس کا رسول اور ایماندار۔ دنیا آخرت میں عزت اور بھلائی ان ہی کے حصے کی چیز ہے۔
جیسے ارشاد ہے ہے آیت «إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ ۖ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» ‏‏‏‏ ۱؎ [40- غافر: 52، 51]‏‏‏‏، یعنی ’ ہم ضرور بضرور اپنے رسولوں کی، ایماندار بندوں کی اس جہان میں اور اس جہان میں مدد فرمائیں گے۔ اللہ حکیم ہے گو وہ قادر تھا کہ بغیر تمہارے لڑے بھڑے کفار کو ملیامیٹ کر دے لیکن اس میں بھی اس کی حکمت ہے جو وہ تمہارے ہاتھوں انہیں ڈھیر کر رہا ہے۔‘