(آیت 9،8){ قُلُوْبٌيَّوْمَىِٕذٍوَّاجِفَةٌ …: } کئی دل اس دن دھڑک رہے ہوں گے، یعنی سخت خوف زدہ ہوں گے۔ ”کئی دل“ اس لیے فرمایا کہ صالح مومن اس دن کی گھبراہٹ سے محفوظ رہیں گے، جیساکہ فرمایا: «لَايَحْزُنُهُمُالْفَزَعُالْاَكْبَرُ» [الأنبیاء: ۱۰۳]”(اس دن)سب سے بڑی گھبراہٹ انھیں غمگین نہیں کرے گی۔“ دلوں اور آنکھوں کا حال بیان کرنے سے اس دن کفار کی ظاہری اور باطنی پریشانی کی مکمل تصویر سامنے آگئی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
8۔ 1 قیامت کے ہول اور شدائد سے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
8۔ دل اس دن کانپ رہے ہوں گے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔