(آیت 7،6) {يَوْمَتَرْجُفُالرَّاجِفَةُ …:} قاموس میں ہے: {”رَجَفَحَرَّكَوَتَحَرَّكَوَاضْطَرَبَشَدِيْدًا“} یعنی {”رَجَفَ“} کا معنی سخت حرکت کرنا اور حرکت دینا دونوں آتے ہیں۔ یہاں حرکت دینا زیادہ مناسب ہے۔ {”الرَّاجِفَةُ“} سے مراد پہلی دفعہ صور میں پھونکے جانے سے برپا ہونے والا زلزلہ ہے جس سے ہر چیز فنا ہو جائے گی۔ {”الرَّادِفَةُ“} سے مراد دوسرے نفخہ سے برپا ہونے والا زلزلہ ہے جس سے تمام لوگ زندہ ہو کر از سر نو قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔ سورۂ زمر (۶۸) میں بھی انھی دونوں نفخوں کا ذکر ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
6۔ 1 یہ نفخئہ اولیٰ ہے جسے نفخئہ فنا کہتے ہیں، جس سے ساری کائنات کانپ اور لرز اٹھے گی اور ہر چیز فنا ہوجائے گی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
6۔ جس دن کانپنے والی [6] (زمین) کانپنے لگے گی
[6] مذکورہ بالا پانچ قسم کے فرشتوں اور ان کے کارناموں کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ پر روز آخرت کے قیام پر حجت قائم فرمائی کہ جو فرشتے تمہاری رگ رگ سے روح نکال کر تمہیں موت سے دوچار کرتے ہیں اور تمہاری روح کو اپنے قبضہ میں لے لیتے ہیں وہ کسی وقت یہی روح تمہارے جسم میں داخل بھی کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ کفار مکہ فرشتوں کی ہستی اور ان کے کارناموں کے قائل تھے۔ ان کی بنیادی غلطی یہ تھی کہ وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں سمجھتے تھے۔ فلہٰذا انہیں بھی تدبیر امور کائنات میں اللہ کا شریک سمجھتے تھے۔ اگرچہ مختار کل اللہ ہی کو سمجھتے تھے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے فرشتے نہ اللہ کی بیٹیاں ہیں اور نہ اللہ کے شریک، بلکہ وہ اللہ کی مخلوق اور اس کے فرمانبردار بندے ہیں اور وہ اللہ کے حکم سے سرتابی کر ہی نہیں سکتے۔ تدبیر امور میں ان کے لیے اپنے اختیار کو ذرہ بھر بھی عمل دخل نہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں