(آیت 46){ كَاَنَّهُمْيَوْمَيَرَوْنَهَا …:} یعنی وہ قیامت جسے یہ بہت دور سمجھ رہے ہیں جب آئے گی تو انھیں ایسے معلوم ہوگا جیسے وہ دنیا میں صرف دن کا پچھلا حصہ یا پہلا حصہ ہی رہے ہیں، پورا ایک دن بھی نہیں رہے۔ مثال سمجھنے کے لیے اپنی گزشتہ زندگی پر نظر ڈال کر دیکھ لیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
46۔ 1 یعنی دنیا میں پورا ایک دن بھی نہ رہے، دن کا پہلا حصہ یا دن کا آخری حصہ ہی صرف دنیا میں رہے ہیں یعنی دنیا کی زندگی، انہیں اتنی قلیل معلوم ہوگی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
46۔ جب وہ اسے دیکھیں گے تو انہیں ایسا معلوم [29] ہو گا کہ گویا وہ (دنیا میں) بس ایک پچھلا یا پہلا پہر ٹھہرے تھے۔
[29] گزشتہ واقعات کے متعلق انسان کا تصور یہ ہوتا ہے کہ بیسیوں سال پہلے گزرے ہوئے واقعہ کے متعلق وہ کہتا ہے کہ یہ کل کی بات ہے۔ یہ اس عالم دنیا کا حال ہے جس میں لیل و نہار کی گردش اسے نظر آتی ہے اور ماہ و سال کا وہ حساب لگا سکتا ہے لیکن عالم برزخ میں تو یہ دن رات بھی نہیں ہوں گے جیسے اصحاب کہف پر تین سو سال گزرنے کے بعد وہ یہ فیصلہ نہ کر سکے تھے کہ وہ اس غار میں پورا دن سوئے رہے ہیں یا دن کا کچھ حصہ۔ بالکل یہی صورت حال قیامت کے دن لوگوں کو پیش آئے گی اور کافر قیامت کا دن دیکھ کر یہی سمجھیں گے کہ ان کی دنیا کی زندگی تو پورا ایک دن بھی نہ تھی۔ کاش یہ تھوڑی سی مدت ہم اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں ہی گزار کر یہاں آتے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں