ترجمہ و تفسیر — سورۃ النازعات (79) — آیت 44

اِلٰی رَبِّکَ مُنۡتَہٰىہَا ﴿ؕ۴۴﴾
تیرے رب ہی کی طرف اس (کے علم) کی انتہا ہے ۔ En
اس کا منتہا (یعنی واقع ہونے کا وقت) تمہارے پروردگار ہی کو (معلوم ہے)
En
اس کے علم کی انتہا تو اللہ کی جانب ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 44){ اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَا: مُنْتَهٰىهَا } اس کی انتہا، جہاں جا کر بات ختم ہوتی ہے وہ رب تعالیٰ ہے، یعنی جس کسی سے قیامت کے متعلق پوچھو وہ بے خبر ہوگا، کسی دوسرے سے پوچھنے کو کہے گا تو وہ بھی بے خبر ہوگا، پوچھتے پوچھتے آخر میں جہاں بات ختم ہوگی اور جو بتا سکتا ہے وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے، درمیان میں سب بے خبر ہیں۔ (موضح القرآن)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

44۔ اس کا علم تو آپ کے پروردگار پر ختم [28] ہوتا ہے
[28] ان کافروں نے بھی عجیب مذاق بنا رکھا ہے کہ اکثر آپ سے یہی سوال پوچھتے رہتے ہیں کہ قیامت کب آنے والی ہے۔ حالانکہ یہ بات آپ کے احاطہ علم سے باہر ہے۔ یہ لوگ جتنا بھی اس سوال کے پیچھے پڑیں اور اس سلسلہ میں آپ کو پریشان کریں بالآخر اس کا یہی جواب سامنے آئے گا کہ اس بات کا علم صرف اللہ کو ہے اور اس بات کا جاننا عملی لحاظ سے کچھ مفید بھی نہیں۔ مثلاً ہر شخص کا یہ تصور ہوتا ہے کہ مرنے سے پہلے مجھے فلاں کام کر جانا چاہیے۔ حالانکہ اپنی موت کا علم اللہ کے سوا کسی کو بھی نہیں ہوتا۔ لہٰذا قیامت کے عقیدہ کا عملی پہلو یہی ہے کہ انسان اس دنیا کی زندگی میں جو دار الامتحان ہے ایسے کام کر جائے جو اس کے لیے مفید ثابت ہوں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔