(آیت 4،3){ وَالسّٰبِحٰتِسَبْحًا ……: ”سَبَحَيَسْبَحُسَبْحًا“} (ف) تیرنا۔ {”السّٰبِحٰتِ“} تیرنے والے۔ {”سَبْحًا“} مصدر تاکید کے لیے ہے، ترجمہ میں یہ مفہوم ”خوب تیزی سے“ کے الفاظ سے ادا کیا گیا ہے۔ مراد وہ فرشتے ہیں جو احکامِالٰہی کی تعمیل کے لیے تیزی سے آسمان میں تیرتے ہوئے جاتے ہیں اور ایک دوسرے سے آگے بڑھتے جاتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
3۔ 1 سَبْح کے معنی تیرنا، فرشتے روح نکالنے کے لئے انسان کے بدن میں اس طرح تیرتے پھرتے ہیں جیسے سمندر سے موتی نکالنے کے لئے سمندر کی گہرائیوں میں تیرتے ہیں یا مطلب ہے کہ نہایت تیزی سے اللہ کا حکم لے کر آسمان سے اترتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
3۔ اور ان کی جو (کائنات میں) تیزی سے تیرتے [3] پھرتے ہیں
[3]﴿سَبَحَ﴾ بمعنی کسی چیز کا پانی یا ہوا میں تیرنا اور تیز رفتاری سے گزر جانا۔ اور سباّح بمعنی ماہر تیراک۔ یعنی وہ فرشتہ جو روح کو نکال کر زمین سے آسمان کی طرف اس قدر سرعت و سہولت سے چلتے ہیں گویا بے روک ٹوک ہوا میں تیرتے جا رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔