ترجمہ و تفسیر — سورۃ النازعات (79) — آیت 20

فَاَرٰىہُ الۡاٰیَۃَ الۡکُبۡرٰی ﴿۫ۖ۲۰﴾
چنانچہ اس نے اسے بہت بڑی نشانی دکھائی۔ En
غرض انہوں نے اس کو بڑی نشانی دکھائی
En
پس اسے بڑی نشانی دکھائی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 20) {فَاَرٰىهُ الْاٰيَةَ الْكُبْرٰى: } بڑی نشانی سے مراد لاٹھی کا سانپ بن جانا ہے۔ { الْاٰيَةَ } کو واحد کے بجائے جنس مان لیں تو عصائے موسیٰ اور یدبیضا دونوں مراد ہو سکتے ہیں، بلکہ موسیٰ علیہ السلام کو عطا کیے جانے والے تسع آيات بينات (۹ معجزے) بھی مراد ہو سکتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۱۰۱)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

20۔ 1 یعنی اپنی صداقت کے وہ دلائل پیش کئے جو اللہ کی طرف سے انہیں عطا کئے گئے تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ ؑ کو دیئے گئے تھے۔ مثلاً ید بیضا اور عصا اور بعض کے نزدیک آیات تسعہ۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

20۔ چنانچہ موسیٰ [15] نے اسے بہت بڑی نشانی دکھائی
[15] فرعون کا معجزہ کا مطالبہ :۔
اس انتہائی نرم گفتگو کے باوجود اور بات کو سمجھ جانے کے باوجود فرعون اپنے اقتدار اور متکبرانہ روش سے دستبردار ہونے کے لیے قطعاً تیار نہ ہوا اور پوچھنے لگا کہ تم اپنے اس دعویٰ رسالت کی تائید میں اللہ کی طرف سے کوئی نشانی بھی پیش کر سکتے ہو؟ موسیٰؑ نے اس سوال کا اثبات میں جواب دیا اور بھرے دربار میں اپنا عصا جو زمین پر پھینکا تو وہ ایک اژدھا بن گیا جس سے فرعون اور سب درباری سخت مرعوب اور دہشت زدہ ہو گئے۔ بالآخر فرعون نے سیدنا موسیٰؑ سے التجا کی کہ وہ جلد از جلد اس اژدھا کو سنبھال لیں۔ چنانچہ آپ نے آگے بڑھ کر اسے پکڑ لیا تو وہ پھر سے وہی پہلے والا عصا بن گیا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔