اس آیت کی تفسیر آیت 18 میں تا آیت 20 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
19۔ 1 یعنی اس کی توحید اور عبادت کا راستہ، تاکہ تو اس کے عقاب سے ڈرے۔ اس لئے کہ اللہ کا خوف اسی دل میں پیدا ہوتا ہے جو ہدایت پر چلنے والا ہوتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
19۔ اور میں تجھے تیرے پروردگار کی راہ دکھاؤں [14] اور تو ڈر جائے؟
[14] فرعون کو اللہ کا پیغام پہنچانا :۔
موسیٰؑ نے اسی مقام پر ایک استدعا یہ بھی کی تھی کہ میرے بھائی ہارون کو بھی نبوت عطا کر کے میرے ہمراہ روانہ کیا جائے تاکہ کم از کم میرا ایک ساتھی تو میرا مددگار ہو۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰؑ کی یہ استدعا قبول فرمائی اور سیدنا ہارون کو نبی بنا کر آپ کے ہمراہ کر دیا مگر ساتھ ہی یہ تاکید کر دی کہ فرعون چونکہ متکبر اور بد دماغ ہے لہٰذا اس سے جو بات کہنی ہو نہایت نرم لہجے میں کہنا۔ اسی طرح ممکن ہے کہ وہ آپ کی بات سننے پر آمادہ ہو جائے ورنہ وہ جوش غضب میں بھڑک اٹھے گا۔ چنانچہ موسیٰؑ نے نہایت نرم اور دل نشین انداز میں اسے سمجھایا کہ کیا تمہارے لیے یہ ممکن ہے کہ تم اس تکبر اور سرکشی کے رویہ سے باز آ کر اللہ کے فرمانبردار بن جاؤ۔ اس طرح تمہاری یہ دنیا کی زندگی بھی سنور جائے گی اور آخرت بھی سنور جائے گی اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ میری رسالت کو تسلیم کر لو۔ میں تمہیں تمہارے پروردگار کی سیدھی راہ بتا دوں گا۔ اگر تمہیں اپنے پروردگار کی صحیح معرفت حاصل ہو گئی تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ تم میں اللہ کی خشیت اور خوف پیدا ہو جائے گا اور جو کام بھی کرو گے اللہ سے ڈرتے ہوئے کرو گے اور یہ چیز تمہاری زندگی کو سنوارنے کا بہترین ذریعہ ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔